کیا لائبریریاں کتابوں سے خالی ہوجائیں گی ؟لائبریری اور کتابیں کچھ عرصہ قبل تک لازم وملزوم شمار ہوتی ہیں مگر ڈیجیٹل لائبریروں کے وجود میں آنے سے کتابوں کی بقاء کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ امریکہ بھر میں لائبریریاں کتابوں کے ذخیرے کو کم اور ای بکس کو بڑھاتی جا رہی ہیں اور اس طرح چھپی ہوئی کتابوں اور ای بکس میں جنگ کی کیفیت ہے۔
یہ بھی واضح ہے کہ صرف بزرگ ہی نہیں، نوجوان نسل میں بھی بڑی تعداد میں لوگ لائبریریوں کا رخ کرتے ہیں اور پرنٹ ایڈیشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ نیویارک میں لائبریری کے باہر شہریوں نے پرنٹڈ کتابوں کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ واشنگٹن ڈی سی میں 2009ء کے بعد سے دس لاکھ کتابیں ختم ہوگئی ہیں۔ لائبریری میں پہلے ای بکس کے لئے ایک فیصد بجٹ ہوتا تھا جو اب بڑھ کر سات فیصد تک جا چکا ہے جبکہ پرنٹڈ کتابوں کا بجٹ 2008ء میں 67 فیصد تھا جو اب کم ہوکر 59 فیصد ہوچکا ہے۔ کتابوں کی کمی سے خالی ہونے والی جگہ کو کانفرنس رومز میں بدلا جا رہا ہے جبکہ مختلف جگہوں پر پرنٹرز نصب کئے جا رہے ہیں۔
سابق امریکی سفیر ڈینس ہیز کا کہنا ہے کہ کوئی چیز بھی کتاب کی جگہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں ڈیجیٹل ہو سکتی ہیں، گوگل کی مدد سے معلومات ڈھونڈی جا سکتی ہیں مگر قابل بھروسہ معلومات کو ڈھونڈنا اب بھی ایک مسئلہ ہے اور اس مسئلے کا حل لائبریریاں ہی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں لائبریرینز کے اپنے مسائل ہیں۔ میری لینڈ کے فریڈرک کنٹری پبلک لائبریز سسٹم کے ڈائریکٹر ڈیرل بیٹسن کا کہنا ہے کہ ہم دو دنیاﺅں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں، 2009ء کے بعد سے کتابوں میں 20 فیصد کمی واقع ہوگئی ہے اور اب ہم نہیں جانتے کہ کتابوں کا کیا مستقبل ہے؟