تحریر :۔ ملک فہیم منجوٹھہ

کوئی بھی معاشرہ علم و ادب کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا،درسگاہیں اور کتب خانے ہمیشہ سے علم و ادب کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن یہ ایک نہایت ہی افسوس ناک المیہ ہے کہ اداروں اور معاشروں کی بے حسی کے سبب نہایت ہی قیمتی اور نایاب کتب کے ذخیرے تلف ہوتے جا رہے ہیں ایسی ہی ایک لائبریری کوٹ سلطان میں موجود ہے جو انتظامیہ کی غفلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے عرصہ دراز قبل ضلع کونسل کی جانب سے بننے والی یہ لائبریری کوٹ سلطان کے لوگوں کی علمی پیاس بجھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی ضلع کونسل کی جانب سے بننے والی اس لائبریری میں لاکھوں روپے کی نایاب کتب رکھی گئی تھیں وٹرنری ہسپتال کوٹ سلطان کے قریب قائم یہ لائبریری اپنے دور میں علم کی ترویج میں اپنا الگ مقام رکھتی تھی کوٹ سلطان کی اس پبلک لائبریری میں لاکھوں روپے کی قیمتی کتب رکھی گئی تھیں جن کے اجراء اوروصولی کے لائبریرین بھی موجود تھا ،مگر انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور غفلت کے سبب علم کا یہ باب بھی جلد ہی بند ہو گیا

File0206File0180

لائبریری ہال کافی عرصہ بند رہا بعدازاں یہ ہال ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو دے دیا گیا اور ہا ل میں موجود قیمتی کتب کی بڑی تعداد با اثر افراد لے گئے جو رہ گئیں ان کو ہال کے ساتھ موجود کوارٹر میں ڈال دیا گیا جہان ا ن کا کوئی پرسان حال نہ ہو ا ۔
صبح پاکستان کی ٹیم پچھلے تین ماہ سے اس لائبریری کے کھوج میں رہی اور اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ سمیت ووکیشنل کالج ،یونین کونسل کوٹ سلطان اور سی او یونٹ کوٹ سلطان کے ہزار ہا چکر کاٹے مگر کسی نے کوئی سراغ نہ دیا سیکرٹری یونین کونسل کوٹ سلطان محمد سلیم کے مطابق لائبریری سی او یونٹ کوٹ سلطان کی تحویل میں ہے اس سلسلہ میں جب سب انجینئر سی او یونٹ کوٹ سلطان جام عبدالرؤف سے بات کی گئی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا ہمیں علم نہیں لائبریری کہاں ہے۔
کئی ماہ کی مسلسل محنت کے بعد آخر کار صبح پاکستان کی ٹیم کوٹ سلطا ن میں واٹر پیوریفیکینشن پلانٹ پر رکھی اس لائبریر ی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ، جہاں قیمتی اور نادر کتب کو انتہائی بد حالی کی صورت میں رکھا گیا ہے جن پر منوں مٹی اور گرد جم چکی ہے واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ پر رکھی یہ کتب د مک اور خستہ حالی کا شکار ہو رہی ہیں،
کتاب دوست افراد ،شعراء کرام ، ادیبوں اور سماجی حلقوں نے ارباب اختیار سے فوری طور پر ان نادر کتب کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے آباء کے ان سنہری موتیوں کو نسل نوع تک پہنچانے کی بھر پور التماس کی ہے ۔

Courtesy: http://subhepak.com/