قادر خان

qakhs1@gmail.com

11

طرابلس ( لیبیا) پر عیسیائیوں نے قبضہ کرکے وہاں کے کتب خانوں کو جلادیا ۔656ھ میں ہلاکو خان نے بغداد کو تاراج کرنے کے بعد وہاں کے عظیم الشان کتب خانوں کی چھ لاکھ سے زائد کتابوںکو دریائے دجلہ میں پھینکوا دیا، تاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے تباہ کیے اور تمام کتب دریا میں ڈال دیں جس سے پانی کا رنگ سیاہ ہوگیا ۔تاتاریوں نے انسانوں کا ہی نہیں بلکہ علم کا بھی قتل عام کیا اور ترکستان ، ماوراء النہر،خراسان، فارس،عراق ، جزیرہ اورشام کی تمام علمی یادگاروں کو برباد کیا ۔

صلیبی جنگوں میں جاہل یورپ نے مصر، شام ،اسپین اور دیگر اسلامی ممالک کی کتب خانوں کی تقریبا تیس لاکھ سے زائدکتابوں کو جلا کرخاکستر کرڈالا۔ Cardinal Ximenesنے ایک ہی دن میں اسی(80) ہزارکتب نذر آتش کیں، صلاح الدین پرالزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے فاطمین مصرکے دور کے قصر شاہی کا عدیم النظیر کتب خانہ نذر آتش کیا۔ اسی طرح سلطان محمود غزنوی نے 420ھ میں ’’رے‘‘ فتح کیا تو وہاں کے کتب خانے بھی جلوا دیے، خاص طور پر صاحب بن عباد کا عظیم الشان کتب خانہ ’’دارالکتب رَے‘‘ اسلامی دنیا کے سب سے پہلے عمومی کتب خانہ میں جسے ابونصرشاپور وزیر بہاالدولہ نے381ھ میں بغداد کے محلہ کرخ میں قائم کیا تھا ۔

دس ہزار سے زائد اہم کتابوں کو 451ھ میں طغرل بیگ سلجوقی نے جلادیا۔قاضی بن عمار نے  طرابلس میں عالیشان کتب خانے کی تاسیس کی جس میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں تھیں یہ کتابیں صلیبی جنگوں میں برباد ہوگئیں۔بغداد میں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ 385ھ تا 420ھ کئی مرتبہ جلایا گیا، آخری مرتبہ 448ھ میں اس طرح جلا کہ اس کا نام ونشان بھی نہ رہا۔549ھ میں ترکوں کے ایک گروہ نے ماورا النہر سے آکر نیشا پور کے کتب خانے جلادیے ۔586ھ میں ملک الموید نے نیشاپور کے باقی ماندہ کتب خانوں کو بھی جلا کر تباہ کر ڈالا۔دنیا میں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی کا سب سے زیادہ ماتم کیا جاتا ہے قدیم دنیا کی سب سے مشہور لائبریری کی لاکھوں کتب نایاب ہوچکی ہیں۔علم بذات خود ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی نہ کسی صورت چلتا رہتا ہے۔

مسلمانوں کی تہذیب کی تاخت و تاراج دور میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا دور اس طرح ابھرا کہ اس کا سورج آج تک غروب نہیں ہوا۔کتب خانہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتابوں کی شکل میں انسانی خیالات،جذبات اور مشاہدات کی حفاظت کی جاتی ہے کہ اس ادارے سے ایک شخص کے خیالات سے اس وقت کی نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی استفادہ حاصل کرسکیں۔زمانہ قدیم میں لوہے،تانبے،  کانسے پتھروں یا کھالوں اور پیپرس Papyrus نامی درخت کی چھال پر لکھی جاتی تھیں پر تحریریں لکھی جاتیں تھیں ،کاغذ کی ایجاد چین کی مرہون منت ہے اس کے بعد پڑھنے لکھنے کے لیے چھاپے خانوں نے علمی انقلاب کو ہمہ گیرکردیا۔

آج کے اس جدید دور میں کتب خانوں کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی اور انٹرنیٹ کی دنیا ایک ’ چپ‘ میں آگئی جس میں کروڑوں،کھربوںکی تعداد میں معلومات کے خزانے موجود ہیں اور جسے کوئی ہلاکو خان دریائے دجلہ میں ڈال کر علم کا دریا سیاہ نہیں کرسکتا ۔ تاہم آج بھی اس اہم سہولت سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا بلکہ تحقیق و جستجو کی جو کاوش کا سرور کسی پڑھنے والے کوکاغذی کتب خانوں سے ملتا تھا وہ لامحدود ہونے کے باوجود انتہائی محدود ہوگیا۔

ہم دس ہزار قبل مسیح کے بعد کے کتب خانوں کے مٹ جانے کا ماتم کرلیں یا پھر ہمارے علاقے برصغیر کی گمنام تہذیب راما اور بحراوقیانوس کی گمنام تہذیب اٹلانٹس کے علوم یا پھر موہن جو داڑو اورہڑپا سے ملنے والے مدفون تاریخ ، یا پھر ہیروشما وناگاسا کی ایٹمی تباہی کو تو تاریخ دان مہا بھارت اوروید کی تاریخوں سے ملا کر دیکھتے ہیں کہ انسان ترقی کی دور سے پھر پتھر کے دور کیسے واپس چلا جاتا ہے۔ آج انٹر نیٹ پر ہمیں تمام  معلومات ایک کلک پر دستیاب ہیں ، کتب بینی کا تصورکم ہوگیا ہے ۔

مغرب کے مقابلے میں آج بھی ہم مٹی کی سیاہی سے لکڑی کی تختیوں پر الف ، ب پ لکھ رہے ہیں۔لیکن کیا ہم نے اپنی آزاد  زندگی سے بڑھ کرکچھ ایسا سوچا ہے کہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جہاں ان کی سب آزادی ختم ہوجاتی ہے، خاص طور پر پاکستان میں تو ان قید خانوں کی اسیری بھی اشرافیہ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے جہاں کسی قیدی کی اصلاح کا تصور صرف اتنا ہے کہ ایسے کتنے دن ، مہینے، سال، قید میں رکھنا ہے یا پھر سنگین جرم میں موت کی سزا سنا دینی ہے۔ مختصر سی دنیا میں اس کی طویل زندگی سکڑ جاتی ہے۔

وہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے اسباب تلاش کرتا ہے اور اصلاح کے بجائے جیل خانوں میں منفی سرگرمیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔جس کی بنیادی وجہ جیل خانوں پر حکومت کی عدم توجہ ہے کیونکہ کسی بھی سزا میں آنے والا قیدی ، جب جیل میں آجاتا ہے تو وہ گناہ گار ہو یا بے گناہ ، اس کی زندگی ٹھہر سی جاتی ہے اور سانسیں بس چلتی ہیں۔

ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ تنہائی میں کتابوں سے بہترکوئی دوست نہیں ہوسکتا ۔ ایسے لوگوں کے لیے جیل کی لائیبریری ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرسکتی ہے ، لائبریریاں قیدیوں کو نفسیاتی آسودگی فراہم کرتی ہیں اور جیل کے ماحول کے منفی اثرات سے انھیں محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ، اچھی لائبریری جیل کی زندگی کو بہتر اور کارآمد طریقے سے گذرنے کامثبت جذبہ قیدی کے اندر پیدا کرسکتی ہے۔

اور ایسے اپنی تاریک زندگی میں روشنی کی کرن نظر آتی ہے، قیدی اگر اپنی اسیری کے دوران کتابوں کے ذریعے باہر کی دنیا سے رابطے میں رہتا ہے تو اس میں منفی رجحانات کافی کم ہو جاتے ہیں اگرجیلوں کے اندر مقید قیدیوں کو لائبریری یا کتابوں تک رسائی کا موقع نہ حاصل ہو تو وہ جیل سے باہرکی دنیا میں واپس آنے پر ناخواندگی، اعلیٰ تعلیم سے محرومی، پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے فقدان یا ذہنی بیماری ، مایوسی یا افسردگی وغیرہ سے سماج کے لیے ناکارہ ہوجاتے ہیںاور اسی دنیا جیل کی دنیا سے بھی بدتر دکھائی دیتی ہے۔

اس لیے قیدی بھی کتابوں اور لائیبریوں کے اتنے ہی ضرورت مند ہیں، جتنے معاشرے میں آزادی سے رہنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ قیدیوں کی بہت سی ضروریات ہوتی ہیں جو پوری نہیں ہوپاتی کچھ جیل کے نظام کی بنا پر ، تو کچھ اس ملزم کی مجبوریوں یا عادتوں کی وجہ سے ۔ لیکن یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ قیدی اپنی معلومات کو بڑھانا چاہتے ہیں وہاں رہ کر کچھ سیکھنا چاہتے ہیں اور زیادہ تر ایسے قیدی بھی ہیں جو جرم کی دنیا سے توبہ کرکے اپنی ذاتی اصلاح Self Improvementکرنا چاہتے ہیں۔ ان تمام ضرورتوں کو صرف ایک اچھی لائبریری ہی پورا کرسکتی ہے۔ امریکا ، یورپ خاص طور پر برطانیہ میں ایک بھی ایسی جیل نہیں ہے جہاں قیدیوں کے لیے لائبریری کا  عقول نظم نہ ہو ایک ادارہ قیدیوں کی تعلیم و رہ نمائی سے متعلق offenders Learning and skills Unit کے نام سے قائم ہے ، جس کا ہدف ہے کہ ہر جیل میں ایک لائبریری ہونی چاہیے اور قیدی کسی بھی نوعیت کا ہو ایسے استفادہ حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ یہ ادارہ نیشنل آفینڈ منجمنٹ سروس National offendrs Management service کی ایک اکائی کے طور پر کام کرتا ہے۔اسی ادارے نے اپنے ایک ڈرافٹ offenders Library, Learning and Information secification-2005میں بتایا ہے کہ’’ یہ بات عام طور پر تسلیم شدہ ہے کہ مجرموں کے لیے لائبریری اپنی تعلیمی اور معلوماتی خدمات کے ذریعے صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا بنیادی اور اہم ترین ذریعہ ہے ۔

پاکستان میں جیل اصلاحات میں لائبریریوں کا تصور بہت کم پایا جاتا ہے اس کے محرکات بڑے تلخ ہیں جس سے عمومی طور پر سب آگاہ ہیں۔لیکن بعض جیلوں میں جیل انتظامیہ کی جانب سے ذاتی کوششوں کے سبب بھی مثبت کوششوں کا علم ہوتا ہے۔ کراچی کی ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے ایک جیلر کامران بلوچ نے مجھ سے رابطہ کیا کہ قادر بھائی ہم ملیر جیل میں ایک لائبریری کا قیام عمل میں لا رہے ہیں ، اس سلسلے میں اگر تعاون کرسکتے ہیں تو یہ علم و ادب کی خدمت کے ساتھ کار ثواب بھی ہوگا۔صاحب علم و استعداد رکھنے والوں سے اپیل ہے کہ جیلر کامران بلوچ یا میرے ای میل پر رابطہ و تعاون فرمائیں۔

Courtesy: http://www.express.pk/