نئی دہلی…شمیم طارق ایک بہترین شاعر نثر نگار کے ساتھ ساتھ ملت کے غم خوار بھی ہیں۔ انھوں نے علمی و ادبی کتابوں کے علاوہ صوفیا کے حوالے سے جو کتاب لکھی ہے اور جو واقعات پیش کیے ہیں وہ اہم ہیں۔ انھوں نے اپنے علمی کمالات کے جوہر اس کتاب میں ظاہر کیے ہیںevent during ghalib academy delhi۔انجمن اسلام ممبئی کے مسلمانوں کا روشن باب ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر خالد محمود نے شمیم طارق کی کتاب ’’انجمن اسلام اور اس کی کریمی لائبریری‘‘ پرغالب اکیڈمی میں منعقدہ مذاکرے میں اپنے صدارتی خطبے میں کیا۔اس پروگرام میں تمام اہل علم نے انجمن اسلام کے تمام عہدیدراوں اور ذمہ داروں کو مبارک باد Suhail Anjum Speaking on Anjuman e Islam and Karmi Libraryپیش کی اور بانیان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پروفیسر شہپر رسول نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تحقیق کے لیے جس علمی شعور کی ضرورت ہوتی ہے وہ شمیم طارق کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں ان تحقیقی تقاضووں کو پورا کیا ہے ۔ اس کتاب کی آمد سے انجمن اسلام اور کریمی لائبریری سے متعلق لوگوں کے علم میں اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ میں خود اس لائبریری اور اس ادارے کو دیکھ چکا ہوں اس لیے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس عظیم ادارے پر یقیناًکوئی کتاب لکھی جانی چاہیے تھی اور شمیم طارق نے اس ضرورت کی تکمیل کی ہے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ شمیم طارق کی یہ تصنیف ایک تاریخی اور غیر معمولی کارنامہ ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی Anjuman E Islam aur Us Ki karimi Library-Book Coverاور جامعہ ملیہ اسلامیہ قدیم علمی دانشگاہیں ہیں لیکن انجمن اسلام ممبئی میں طلبہ کی تعداد ان دونوں اداروں سے زیادہ ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ تقریباً ایک سو چالیس برس قدیم اس علمی دانشگاہ پر اب تک کوئی مبسوط تاریخ نہیں لکھی گئی جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلق سے کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ شمیم طارق نے عمیق مطالعہ ، مشاہدہ اور تحقیق کی خوبیوں کے ساتھ اس کتاب کو لکھا ہے ۔ بلا شبہ اس کتاب کو ایک دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں اپنے مخصوص اسلوب اور اپنے دانشورانہ بصیرت کے ساتھ اپنے خیالات کو تحریر کیا ہے۔ پوری کتاب اہم اور غیر معمولی ہے۔ جناب انجم عثمانی نے اس کتاب پر ایک مضمون پیش کرتے ہوئے کہا کہ شمیم طارق میں غیر معمولی صلاحیتیں ہیں۔ ان کے علم و فضل کے ہم سب قائل ہیں۔ شمیم طارق سے اردو دنیا روشناس ہوچکی ہے۔ ان کا یہ علمی کارنامہ ہمیں خوشی اور حیرت میں مبتلا کرتا ہے جس طرح سے شمیم طارق نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بالخصوص ممبئی کے مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال ، انجمن اسلام اور کریمی لائبریری کا خاکہ کھینچا ہے وہ قابل تحسین ہے۔یہ کتاب ایک تاریخی نوعیت کی ہے۔ جناب سہیل انجم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ایک بے حد اہم موضوع پر انتہائی تحقیقی انداز میں تصنیف کی گئی ہے۔ اس کی تیاری میں شمیم طارق نے جس عرق ریزی اور دقت نظر سے کام لیا ہے اس کی گواہی ایک ایک سطر دے رہی ہے۔ کتاب میں انجمن اسلام اور اس کی لائبریری کے بارے میں تفصیلات کے علاوہ ممبئی کی ابتدائی آبادی کے ساتھ ساتھ وہاں مسلمانوں کی آمد کی تاریخ اور ان کے تعلیمی و اقتصادی فروغ پر بھی انتہائی معلوماتی مواد جمع کیا گیا ہے۔ اگر ان کو الگ الگ کر کے شائع کیا جائے تو تین چار کتابیں تیار ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے کوزے میں دریا نہیں بلکہ قطرے میں دریا بند کیا ہے۔غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کتاب کا تعارف پیش کیا۔ متین امروہوی اور احمد علی برقی نے اس کتاب اور شمیم طارق پر نظم پیش کی۔ شاہ نواز فیاض نے اس کتاب اور انجمن اسلام کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس موقع پر کئی اہم شخصیتیں موجود تھیں جن میں عارف عزیز، کوثر صدیقی، اقبال مسعو(بھوپال)د، پروفیسر محمد ظفر الدین(حیدرآباد)،ظہیر برنی، ابرار رحمانی، ،ڈاکٹر عمیر منظر(لکھنو،ڈاکٹرخان احمد فاروق(کانپور)،فضیل بن اخلاق، نسیم عباسی، شہباز ندیم ضیائی، شاہد اختر(گیا)، ابو ظہیر ربانی، ڈاکٹر خالد مبشر، جاوید نسیم(رامپور) کے نام شامل ہیں۔