53d41ed4cec82آن لائن۔۔۔انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کے استعمال کی وجہ سے کتاب بینی کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے شہری لائبریری کا رخ نہیں کرتے۔

کتاب بینی کے کم ہوتے ہوئے رجحان کے پیش نظر جناح لائبریری کے چیف لائبریرین محمد طارق نے ‘بک ایمبسڈر کونسل’ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

محمد طارق نے سجاگ کو بتایا کہ بک ایمبسڈر کونسل کا مقصد شہریوں اور طلبا و طالبات کو کتاب بینی کی طرف راغب کرنا ہے۔

‘جناح لائبریری میں سات ہزار سے زائد ممبران ہے، لیکن صرف دو سے تین سو شہری روزانہ لائبریری وزٹ کرتے ہیں۔’

انہوں نے بتایا کہ کونسل سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا دورہ کرے گی، جس میں اساتذہ اور طلبا کے ساتھ کتاب بینی کی اہمیت پر سیشن کیے جائیں گے اور موقع پر ہی لائبریری ممبرشپ کے لیے رجسٹریشن کی جائے گی۔

‘طلبا سے ممبر شپ فیس تین سو روپے بطور سیکورٹی اور 30 روپے سالانہ کے حساب سے وصول کیے جائیں گے، جبکہ جنرل ممبران سے پانچ سو روپے سیکورٹی اور 60 روپے سالانہ کے حساب سے وصول کیے جائیں گے۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ ممبرشپ فارم موقع پر ہی فراہم کیے جائیں گے اور ایمبسڈر کونسل اپنا پہلا سیشن گورنمنٹ کالج ساہیوال میں اساتذہ اور طلبا کے ساتھ 11 اپریل کو کرے گی۔

‘کونسل تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کتاب کی اہمیت پر ہفتہ وار سیشن کرے گی، 18 اپریل کو الائیڈ سکول کے اساتذہ کے ساتھ سیشن ہو گا۔’

محمد طارق نے کونسل ممبران کے بارے میں بتایا کہ کونسل کے ممبران میں مختلف سماجی اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے جن میں راؤ محمد شفیق، رانا غلام مصطفی شامی، پروفیسر اکبر شاہ، پروفیسر اکرم ناصر، شیخ عمر، پروفیسر شبیر مغل، فاروق اظہر، پروفیسر راؤ تجمل، پروفیسر رانا شبیر حسین شکیب، پروفیسر محمد اشرف، رانا ندیم، پروفیسر اجمند قریشی اور ملک احتشام الحق شامل ہیں۔

کونسل کے ممبر اور سابق ڈپٹی ڈی او ایجوکیشن راؤ محمد شفیق نے سجاگ کو بتایا کہ طلبا اور دوسرے شہریوں کو کتاب بینی کی طرف مائل کرنے کے لیے بک ایمبسڈر کونسل کے قیام کا عمل ضروری تھا، لائبریری کی ممبرشپ بڑھانے کے لیے کونسل رضاکارانہ طور پر کام کرے گی۔

‘کونسل تعلیمی اداروں میں سیشن کے علاوہ لائبریری ممبران کی پسند کے مطابق کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔’

Courtesy: http://pakpattan.sujag.org/