jiinah library khanewal

جناح لائبریری  خانیوال 10 سال سے لائبریرین کی منتظر ہے، جس کے باعث لائبریری کے تمام انتظامی معاملات التوا کا شکار ہیں۔

انچارج لائبریری حشمت پہوڑ نے کو بتایا کہ 10 فروری 2005 کو لائبریری کا افتتاح ہوا تھا لیکن اس پراجیکٹ کی افادیت اس وقت ختم ہو گئی جب اس کو فعال رکھنے والے تربیت یافتہ عملے کی نشستوں کی منظوری نہیں کروائی گئی۔

‘لائبریری کو ضلعی انتظامیہ کے پانچ ملازمین بطور انچارج لائبریری، اسسٹنٹ لائبریرین، کمپیوٹر آپریٹر، نائب قاصد اور ایک چوکیدار سنبھال رہے ہیں۔’

انہوں نے بتایا کہ کتابوں کا ذخیرہ 4500 کی تعداد پر آکر رک چکا ہے کیونکہ پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن نے مزید کتابوں کی خرید بذریعہ کمیٹی کرنے کی پابندی لگا دی ہے۔

‘لائبریری کے متلعقہ عملے کی تعیناتی تک نگران کمیٹی نہیں بن سکتی جس کے باعث مزید کتابوں کی خرید بھی رک چکی ہے۔’

حشمت پہوڑ نے بتایا کہ تحصیل خانیوال کے علاوہ قریبی علاقوں کے لوگ بھی اس لائبریری کے ممبر ہیں لیکن ان کی تعداد صرف 350 ہے جن میں سے ایک تہائی تعداد خواتین کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر 50 سے 60 لوگ لائبریری آتے ہیں، اگر لائبریرین اور دیگر عملہ تعینات ہو اور لائبریری کی افادیت پر آگاہی مہم چلائی جائے تو قارئین کی تعداد بڑھ جائے گی اور لائبریری سے زیادہ سےزیادہ لوگ مستفید ہوں گے۔

Courtesy: sujag.org