150910204848_iran_books_624x351_afp_nocredit

بی  بی  سی  اردو۔  ایران میں ایک جج نے مجرموں کو جیل بھیجنے کے بجائے کتابیں خریدنے اور پڑھنے کی سزا دینی شروع کر رکھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جج قاسم نقی زادے جو ملک کے شمال مشرقی شہر گنبدِ کاؤس میں ایک عدالت کے سربراہ ہیں، مجرموں کو قید کی سزا نہیں سناتے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جج نقی زادے کہتے ہیں کہ وہ جیل کی سزا اس لیے نہیں دیتے کہ ’سزا پانے والوں اور ان کے گھر والوں پر اس سزا کی وجہ سے پڑنے والے جسمانی اور ذہنی اثر کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔‘

مجرموں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ پانچ کتابیں خریدیں اور انھیں پڑھیں اور پھر ان کا خلاصہ لکھیں جو واپس جج کو بھیجا جاتا ہے۔

نیوز ایجنسی کے مطابق یہ کتابیں بعد میں مقامی جیل کو عطیہ کر دی جاتی ہیں۔ یہ سزا روحانی اور تعلیمی ہوتی ہے اور مجرموں کو لکھتے وقت پیغمبرِ اسلام کی ایک حدیث بھی اس خلاصے میں شامل کرنا پڑتی ہے۔

حال ہی میں اختیار کردہ ایک قانون کے تحت کچھ مقدمات میں جج قید کی سزا کے بجائے دیگر سزاؤں کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

جج نقی زادے جو سزائیں سنا رہے ہیں وہ چھوٹے جرائم پر دی جاتی ہیں یا پھر 13 سے 19 سال کے لڑکوں کو یا ایسے افراد کو جنھوں نے پہلے کوئی جرم نہیں کیا ہوتا۔

سزا یافتہ افراد کو منظور شدہ کتابوں کے ایک انتخاب سے اپنی مرضی کی کتاب چننے کا اختیار دیا جاتا ہے۔

جج تقی زادے نے ’ارنا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کتابوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تعلیمی قابلیت کی سطح، علم یا عمر سے قطعِ نظر تمام قیدی ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ ان کتابوں میں وہ کتابیں شامل ہیں جو بہت سادہ انداز سے لکھی گئی ہیں۔‘

اس کے علاوہ نفیسں سائنسی کتابیں بھی ہیں۔ کتابوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ان کے لیے بھی سود مند ہیں جنھیں یہ عطیہ کر دی جاتی ہیں۔‘