ایک روزن لکھاری
رضا علی عابدی، صاحبِ مضمون

از، رضا علی عابدی

علم کا ایک اور سفینہ ڈوب گیا۔ بھوپال کی تاریخی اقبال لائبریری کو پچھلے دنوں کی بارش نگل گئی۔ اگست کا آخری ہفتہ تھا۔ ایک روز بادل ٹوٹ کے برسا۔ کہتے ہیں صرف ڈیڑھ گھنٹے کی جھڑی لگی۔ جب بند ہوئی تومنظر یہ تھا کہ کمر کمر پانی میں ڈوبا اقبال لائبریری کا سراسیمہ عملہ کتابوں اور رسالوں کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ کتابوں سے بھری ہوئی الماریاںآدھی آدھی ڈوب گئیں اور جب پانی اترا تو احساس ہوا کہ کتنا بھاری نقصان ہو چکا ہے۔ اس نوعیت کا یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں۔

میں سنہ بیاسی میں ہندوستان اور پاکستان میں پرانے کتب خانوں اور کتابوں کے ذخیروں کا جائزہ لینے کئی ہفتوں کے سفر پر نکلا تھا۔ درجنوں ذخیرے تو میں نے خود دیکھے، سینکڑوں کا احوال احباب سے سنا۔ اس احوال کے بیچ کتنے ہی کتب خانوں کا ذکر آیا جو کبھی تھے، اب نہیں رہے۔ میں دعا کرتا ہوا لوٹا کہ ترقی کا دور شروع ہوچکا ہے، لوگ کتابوں کو کیڑوں مکوڑوں، آگ اور پانی سے بچانے کی تدبیریں سیکھ گئے ہوں گے، کاش اب مزید کوئی نقصان نہ ہو۔ یہ دعا مانگے زیادہ عرصہ نہ ہوا تھا کہ دکن سے خبر آئی کہ حیدرآباد کے عبدالصمد کا کتابوں اور رسالوں کا نادر اور نایاب ذخیرہ موسیٰ ندی کی طغیانی کی بھینٹ چڑھ گیا۔

عبدالصمد پیشے کے اعتبار سے موٹر مکینک تھے مگر انہیں قدیم کتابیں جمع کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ برسوں کی جستجو کے بعد انہوں نے ایسا شان دار کتب خانہ قائم کرلیا جس میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ریسرچ کیا کرتے تھے۔ یہ کتب خانہ جب میں نے دیکھا تو ایک اونچی عمارت کی چھت پر بنے عارضی سے کمروں میں قائم تھا۔ بعد میں خبر ملی کہ عبدالصمد کی ساری کتابیں اور رسالے ایک عمارت کے تہ خانے میں منتقل ہوگئے ہیں۔ اس وقت کسی نے دھیان نہ دیا کہ موسیٰ ندی اس تہ خانے سے لگی لگی بہتی ہے۔ پھر وہی ہوا جس کا خوف تھا۔

ایک رات ندی بپھری اور پانی کے ریلے نے جن ٹھکانوں کو بہا لے جانے کا قصد کیا تھا، ان میں عبدالصمد کے ذخیرے کا بڑا حصہ شامل تھا۔ اب یہ تازہ خبر دکن سے تو نہیں، بھوپال جیسی علم پرور ریاست سے آئی اور وہ بھی دل کو دکھاتی ہوئی۔ شہر کی اقبال لائبریری سنہ انیس سو انتالیس میں قائم ہوئی تھی اور رفتہ رفتہ وسطی ہندوستان کے بڑے کتب خانوں میں شمار ہونے لگی تھی۔

علامہ اقبال سے موسوم یہ لائبریری بھوپال کے شیش محل کے سامنے واقع ہے۔ علامہ جن دنوں بھوپال گئے تھے، انہوں نے اسی عمارت میں قیام کیا تھا۔ سیلاب سے پہلے اس کتب خانے میں کہا جاتا ہے کہ اسّی ہزارکتابیں موجود تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ اردو کتابیں اور رسالوں کی بندھی ہوئی جلدیں تھیں۔ یہ سارا ذخیرہ تہ خانے جیسے ایک ہال میں رکھا گیا تھا جو سڑک کی سطح سے نیچا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی موسلا دھار بارش اپنے ساتھ ایسا ریلا لائی کہ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اچانک سب کچھ تیرنے لگا۔ اور ایک بیان کے مطابق بے شمار کتابیں بھیگ کر لگدی بن چکی تھیں، یعنی پانی میں گھُل گئی تھیں۔

کتب خانے کے عملے نے کتابوں کو بچانے کی سر توڑ کوشش کی۔ اس وقت ان لوگوں کی بے بسی دیکھی نہیں جاتی تھی۔ اب تک ایک ایک الماری کو کھول کر بچی کھچی کتابیں نکالی جارہی ہیں مگر رکھنے اٹھانے کے عمل ہی میں کتابیں ریزہ ریزہ ہوئی جاتی ہیں۔ کتب خانے کے منتظم رشید انجم کہتے ہیں کہ ضائع ہونے والی کتابوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ جتنا ذخیرہ بچ رہا ہے اسے کسی بہتر اور محفوظ جگہ منتقل کیا جائے۔ اقبال لائبریری ایک غیر سرکاری ادارہ ہے، اس کے وسائل قلیل ہیں، عملے کو برائے نام اجرت ملتی ہے اور کئی رضاکار بلا معاوضہ کام کرتے ہیں۔ یہ لائبریری طلبا کے لیے بڑی کارآمد ہے جن کے لیے مقابلے کے امتحان سے تعلق رکھنے والی کتابیں مسلسل خریدی جاتی ہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ پرانے وقتوں کی روایت کے مطابق یہاں عربی، فارسی، ہندی اور سنسکرت کتابیں بھی موجود ہیں۔ قارئین کے ذوق کی مناسبت سے یہاں ابن صفی سے لے کر اکرم الہ آبادی تک اور دوسرے مقبول مصنفوں کے ناول بھی رکھے گئے ہیں۔ لائبریری کو دلّی کے مشہور اردو رسالوں کے ذخیرے پر ناز تھا۔ اندیشہ ہے کہ وہ پانی کی نذر ہوگیا۔ وسطی ہند کی اتنی بڑی لائبریری کو گرانٹ ملتی ہے لیکن بس آنسو پونچھنے بھر کی۔ کچھ لوگ رکنیت کے نام پر فیس ادا کرتے ہیں لیکن برائے نام۔

بھوپال کی تاریخ کے ورق کھولیں تو دل میں ہُوک سی اٹھتی ہے۔ ڈاکٹر رضیہ حامد لکھتی ہیں کہ نواب شاہجہاں بیگم کے دور میں بھوپال میں پڑھنے لکھنے کا ذوق عام تھا۔ لوگ بڑے شوق سے تعلیم حاصل کررہے تھے جس کے ساتھ ہی کتابیں لکھنے اور چھاپنے کا رواج عام ہوا۔ ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ریاست کی طرف سے کتابیں مفت تقسیم کی جاتی تھیں جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں کتب خانے قائم کرنے لگے تھے۔ بھوپال کے سرکاری چھاپہ خانوں میں کوئی دوسو کتابیں سالانہ چھپتی تھیں اور مفت تقسیم ہوتی تھیں۔

جن دنوں میرا بھوپال جانا ہوا، اس دیوانِ غالب کی بڑی شہرت تھی جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ غالب کے اپنے ہاتھ کی تحریر ہے۔ وہ نسخہ کسی طرح امروہہ اور وہاں سے رام پور پہنچا، ایک دنیا اسے دیکھنے کے لیے بے چین تھی۔ اس کا ایک شاندار اور مہنگا ایڈیشن چھپ رہا تھاکہ اس کا عکس کسی طرح لاہور پہنچا اور سستے داموں شائع بھی ہوا۔

آخر میں حال کھلا کہ کسی ماہر خوش نویس کا تیار کیا ہوا وہ جعلی نسخہ تھا اور غالباً بھاری معاوضے کے خیال سے ریاست بھوپال لایا گیا تھا۔ میں جو کتابوں کے پرانے ذخیروں کا حال جاننے کے خیال سے نکلا تھا، مجھے بتایا گیا کہ ریاست کے محلّات میں خدا جانے کیسی کیسی کتابیں موجود ہیں، کوئی نہیں جانتا اور وہ ثابت و سالم ہیں یا غارت ہوئیں، کسی کو خبر نہیں۔

یہ مضمون روزنامہ جنگ میں شائع ہوا