azhar khan” میں بہت سے اداروں میں انٹرویوزدے چکا ہوں ، لیکن کبھی کہیں سے کوئی”جاب آفر” نہیں آئی، یہاں تمام “آسامیوں” پر پہلے سے ہی تعیناتی ہو چکی ہوتی ہے۔ اور ہم جیسے لوگوں کو صرف ” خانہ پُری” اور ” کاغذی کارروائی” کے لیے ہی بلایا جاتا ہے۔ یہاں ہر کام” سفارش” اور ” رشوت” سے ہوتا ہے۔میری تمام ڈگریاں فضول ہیں، اور “سولہ سال” کی محنت کے بعد بھی مجھے کوئی ادارہ نوکری دینے کو تیار نہیں، آپ ہی بتائیں میں کہاں جاؤں؟ میرے غریب ماں باپ تو میری تعلیم پر ہی اپنی ساری جمع پونجی لٹا چکے ہیں، اور اب میں ان کے کندھوں پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ یہ معاشرہ مجھے ” انتہائی قدم” اٹھانے پر مجبور کر رہا ہے،میرے دوست نے سسکتے ہوئے کہا اور پھر اچانک ہی وہ “زارو قطار ” رونے لگ گیا، اور میں نے اسے “دل کی بھڑاس” نکالنے دی، کچھ لمحوں بعد جب وہ تھوڑا پر سکون ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ یہ بتاؤ کہ تمہیں اپنے پورے ” تعلیمی کیرئیر” کے دوران کون سی ایسی باتیں یاد ہیں جو تمہارے لیے قابل فخر ہیں اور کون سے لمحات ایسے ہیں جو تمہیں ابھی بھی بہت شدت سے یاد آتے ہیں،اس کی آنکھیں چمکنے لگ گئیں، اور پھر اس نے بتایا کہ “میٹرک” کے امتحان میں اس نے اپنے سکول میں ” فرسٹ پوزیشن” لی تھی، گریجویشن بھی اس نے امتیازی نمبروں سے پاس کی، اور کالج کی سپورٹس ٹیم کا حصہ بھی رہا، اس کے بعد اس نے ماسٹرز شہر کی مشہور یونیورسٹی سے بہت اچھے نمبروں میں پاس کیا، تب وہ اپنی یونیورسٹی میں گزری ہوئی “خوبصورت یادیں” شئیر کرنے لگا، ایسا بتاتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی نمایاں تھی، یونیورسٹی دَور کو یاد کرتے ہوئے اس نے ہنستے ہنستے اپنی اور دوستوں کی شرارتوں کے بارے میں بتایا، وہ کیسے ہوسٹلز لائف کو انجوائے کرتے، کیسے یونیورسٹی میں ٹیچرز کو دوران کلاس ڈسٹرب کرتے، کیسے وہ لڑکیوں کو متاثر کرنے کے لیے نت نئے بہانے ڈھونڈتے، غرضیکہ یہ سب بتاتے ہوئے وہ انتہائی پرجوش نوجوان لگ رہا تھا ، اس کے اندرکا ” اصل انسان” باہر آگیا تھا، اور وہ تھوڑی دیر بعد اپنی پہلی سچویشن سے بالکل مختلف بہت پر سکو ن لگ رہا تھا۔اور ہنستے ہنستے ہی بولا ، سوری یار، میں کچھ جذباتی ہوگیا تھا، لیکن مجھے کوئی مشورہ دو کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ، میں تو انٹرویوز دے دے کر تھک چکا ہوں اور مجھ سے زیادہ نا اہل لوگوں کو ملازمت مل جاتی ہے لیکن فرسٹ ڈیویژن لینے کے بعد بھی میں ابھی تک در بدر پھر رہا ہوں، تب میں نے اس سے مسکراتے ہوئے پہلا سوال کیا کہ مجھے اپنا “انٹروڈکشن ” کرواؤ، اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا اور کہا ” تم میرے بارے میں تو سب جانتے ہی ہو”میں نے پھر اپنا سوال دہرایا کہ جیسے تم “انٹرویو” کے دوران اپنا ” انٹروڈکشن” کرواتے ہو ،بالکل ویسے ہی مجھے بتاؤ، وہ تھوڑا سا ہچکچایا اور پھر مختصر طریقے سے اپنا نام، اور تعلیم کے بارے میں بتایا اور پھر مجھے دیکھنے لگا، ایسا کہتے ہوئے اس کے لہجے اور “مکمل انٹروڈکشن” میں کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی جس سے میں ” متاثر” ہوتا، میں نے دوسرا سوال کیا کہ ” تمہارے اندر ایسی کون سی خاص بات ہے جس کی بنا پر کوئی بھی ادارہ تمہیں فوراً نوکری دینے پر آمادہ ہو جائے، جواب آیا” میں نے فرسٹ ڈیویژن میں ایم۔اے” کیا ہوا ہے اور میرے خیال میں میری تعلیم ہی اس نوکری کے لیے ” کافی ” ہے۔ اس نے فخر سے بتایا”اچھا ایم۔اے تو بہت سے اور لوگوں نے بھی کیا ہوا ہے اور وہ بھی تمہاری طرح نوکری کی تلاش میں گھوم رہے ہوتے ہیں تم باقی سب سے الگ کیسے ہو اپنی کوئی ایک خوبی تو ایسی بتاؤ جس کی بنا پر کوئی بھی کمپنی تمہیں لازمی نوکری دے دے یا تم اس کمپنی کی مجبوری بن جاؤ” میں نے تیسرا سوال کیا ،اس نے بیزاری سے مجھے دیکھا اور کہا “یار ایم۔ اے کوئی ” اینویں” ہی تو نہیں ہو جاتا، تم مجھے انڈر اسٹیمیٹ کر رہے ہو اب تم کوئی ڈھنگ کا اور سوال نہیں کر سکتے کیا”۔ میں نے مسکراتے ہوئے چوتھا سوال کیا، چلو یہ بتاؤ کہ تمہاری سب سے بڑی کمزوری کیا ہے ؟ اور اس نے انتہائی حیرانی سے مجھے دیکھا اور کہا بھائی الحمدللہ میں بالکل صحت مند ہوں اور کوئی بھی کمزوری نہیں ہے۔۔میں نے پھر کہا کہ میں جسمانی نہیں بلکہ تمہاری پرسنالیٹی سے متعلق پوچھ رہا ہوں تو اس نے تھوڑا غصے سے کہا کہ اب تم میری پرسنالیٹی میں کیڑے نکالنا چاہتے ہو تو خود ہی نکال لو مجھے نہیں پتہ کہ میری کیا کمزوری ہے۔اور اس کے بعد میں نے اگلا سوال کیا کہ تم جب بھی کسی کمپنی میں نوکری کے لئے اپلائی کرتے ہو تو کیا اس کمپنی کے بارے میں انٹرویو سے پہلے کوئی تفصیلات جاننے کی کوشش کرتے ہو کہ ان کا بزنس یا پروجیکٹ کیا ہے” اس نے پھر حیرانی سے گھور کر مجھے دیکھا اورکہا “یار جس کمپنی میں، میں خود پہلی بار انٹرویو کے لیے جا رہا ہو ں اس کے بارے میں بھلا میں پہلے سے کیسے جان سکتا ہوں، تم کیسی عجیب سی باتیں کر رہے ہو۔۔ ” اچھا” یہ بتاؤ کہ تم انٹرویو کے لیے کیسی ڈریسنگ کر کے جاتے ہو” میں نے ایک اور سوال کیا، اس نے ہنستے ہوئے کہا بھلایہ بھی کوئی سوال ہے،اب انٹرویو کے لیے میں نیکر اور ٹی شرٹ میں تو نہیں جاؤ ں گا، مجھے سنجیدہ دیکھ کر بولا کہ میں کوئی بھی” شوخ کلر” کی شرٹ اور اس کے ساتھ ڈارک بلیوجینز”پہن کر جاتا ہوتا ہوں۔ اور یونیورسٹی میں میری ڈریسنگ پر مجھے” ہیرو” کہا جاتا تھا، اس نے مسکراتے ہوئے بتایا۔

میں نے اپنا آخری سوال کیا “کہ کیا تم کبھی کسی انٹرویو کے لیے پہلے سے تیاری کر کے گئے ہو ، کہ وہاں جو بھی ممکنہ سوالات ہو سکتے ہیں ان کا جواب کیسے دینا ہے یا کبھی انٹرویو سے پہلے مکمل ریہرسل کی ہے یا کسی دوست کو انٹر ویو دینے کی کوشش کی ہے ، اور پھراس نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا یار ویسے حد ہو گئی ہے، اب میں کوئی “جن” یا عامل بابا” تو ہوں نہیں جو پہلے سے ہی اپنے علم کے ذریعے پتہ لگا لوں کہ آج مجھ سے کیا سوالا ت ہونے والے ہیں تو پھر ریہرسل کرنے یا دوستوں کو انٹرویو دینے کا کیا فائدہ ؟ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا اورکہا، کہ پھر کسی کمپنی کا قصور نہیں ہے کہ تمہیں نوکری نہیں ملی ، اس نے انتہائی حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا ” کیا مطلب ہے تمہارا۔ اور پھر جب اس کا اصرار بڑھتا گیا تو میں نے اس کے سوال کا جواب دینے کا فیصلہ کر لیا۔
(جاری ہے)