azhar khan

Email: azher124@gmail.com Facebook: Azher Khan
کسی بھی انٹرویو تک پہنچنے سے پہلے آپ کا اس ادارے میں پہنچنے کا پہلا سٹیپ آپ کا سی۔وی ہے ، آپ کی شارٹ لسٹنگ ایک اچھے سی۔وی کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔ اور کسی بھی فریش گریجویٹ کے لیے سی۔وی بنانا مشکل مرحلہ ہوتا ہے ، وہ کسی بھی کمپوزنگ سنٹر پر جا کر پہلے سے سیٹ شدہ پیٹرن پر اپنا سی۔ وی بنوانے کے بعد کسی بھی ادارے میں اپلائی کر دیتے ہیں، ذرا سوچیے،اس پیٹرن پر بہت سے اور لوگ بھی سی۔وی بنا کر بھیج رہے ہوتے ہیں اور آپ نے بھی اگر کاپی شدہ فارمیٹ پر ہی سی۔وی بھیجنا ہے تو اس میں انفرادیت نہیں ہو سکتی، یاد رکھیے آپ کا سی۔وی آپ کی 16 سالہ تعلیمی قابلیت کو بیان کر رہا ہوتاہے،آپ کی لائف کی کیا ایچیومنٹس رہیں یا آپ کا کوئی جاب ایکسپیرئینس ہے ، یہ سب آپ کا سی۔وی بیان کر رہا ہوتا ہے، ا نٹرویوتو بہت بعد کا مرحلہ ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ پہلے سے ہر کسی کا بنایا ہوا فارمیٹ کاپی کر کے اس پر سی۔وی بنا دیتے ہیں یاپھر اس میں کوئی جدت لاتے ہیں، سی۔وی میں اپنے Career Objective وہ لکھیں جو کہ آپ کی ڈگری کی اہمیت بھی واضح کریں، اور آپ کی Determinationاور ایک Leading Personality کو بھی نمایاں الفاظ میں بیان کریں۔ آپ کے تعلیمی میدان میں جو بھی نمایاں Achievements رہیں، وہ بھی کسی ادارے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، سی۔ وی بنانے کے لیے اگر آپ کسی پروفیشنل سے گائیڈ لائن لے لیتے ہیں تو آپ ایک اچھا سی ۔وی بناسکتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ آپ کا انٹرویو ہے اور اس میں سب سے اہم آپ کا انٹروڈکشن ہے، کبھی بھی کسی بھی ادارے میں جب آپ انٹرویو کے لیے جائیں توآپ کو لازمی طور پر کچھ دن پہلے اس انٹرویو کے حوالے سے کال یا لیٹر کے ذریعے آگا ہ کیا جاتا ہے،ملازمت میں تجربہ کار لوگ تو اس کمپنی یا ادارے کے حوالے سے ان کی ویب سائٹ سرچ کر کے انٹرویو سے پہلے ہی ان کے بارے میں سب کچھ جان لیتے ہیں، لیکن نئے Candidates ایسا جاننے کی زحمت نہیں کرتے یا ان میں سے کچھ اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں ہوتے، جتنے بھی پرائیویٹ یا گورنمنٹ ادارے ملک میں کام کر رہے ہیں، تقریبا تمام کی ویب سائٹس موجود ہیں، آپ انٹرویو سے پہلے ان کی ویب سائٹس پر جا کر ان کے بارے میں مکمل اور تفصیلی معلومات جان سکتے ہیں جس میں کمپنی کے نیوز لیٹرز، اور سالانہ رپورٹس آپ کو بہت معلومات فراہم کر سکتی ہیں، اس کے بعد ایک مکمل انٹرویو کی تیاری کرنا بہت ضروری ہے انٹر ویو میں عموما آپ سے پہلا سوال آپ کے انٹروڈکشن کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ اور انٹروڈکشن ایک ایسا سوال ہے جس کے اوپر آپ اپنا پورا انٹرویو اپنی مرضی سے کروا سکتے ہیں،اگر آپ اس سوال کا جواب مہارت سے دیتے ہیں، تو پھر آپ کا انٹرویوبہت شاندار ہو سکتا ہے اور کامیابی کے چانس بھی بڑھ سکتے ہیں۔آپ کے انٹروڈکشن میں صرف نام اور تعلیم ہی نہیں ہو تی، بلکہ اگر کوئی جاب ایکسپیرئینس ہے اور اگر آپ فریش گریجویٹ ہیں تو آپ کی تعلیمی کیرئیر کے دوران ایچیومنٹس ، آپ کے انٹرسٹس اور ہابیز بھی اس میں شامل ہوتی ہیں، آپ کا انٹروڈکشن مختصر مگر جامع ہونا چاہیے۔آج سے آپ ایک لسٹ مرتب کریں، جو آپ کے تمام انٹرویوز میں آپ کے کام آئے گی، اس لسٹ میں سرفہرست اپنا انٹروڈکشن لکھیں اور نیچے اس کا مکمل جواب لکھیں، اور اس کے بعد آپ کی اب تک کی ایچومنٹس چاہے وہ تعلیمی کیرئیر کے دوران ہو ں یا جاب کی ہوں۔ تیسرے نمبر پر آپ اپنیAbilities, Skills , Strengths اور Weakness کے بارے میں لکھیں، اور اگر آپ کو خود اس بارے میں آئیڈیا نہ ہو تو اپنے کسی جاب ہولڈردوست یا کسی اور پروفیشنل سے بھی پوچھ سکتے ہیں، چوتھے نمبر پر آپ کسی بھی ادارے کے لیے یا کسی بھی جاب کے لیے سب سے بہتر Candidateکیسے ثابت ہو سکتے ہیں یا آپ کو ہی کیوں ہائر کیا جائے، دلائل کے ساتھ اپنا جواب لکھیں کہ آپ اپنی Skillsکو استعمال کر کے کیسے اس کمپنی کے لیے سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں، اور یہ آپ اس انٹرویو سے پہلے اس کمپنی کے بارے میں جان کر ہی بہتر طور پر لکھ سکتے ہیں۔ کمپنی کے بارے میں جتنی ریسرچ کر سکتے ہیں، آپ کو کرنی چاہیے کیونکہ یہ ریسرچ ہی آپ کے انٹرویو کی کامیابی کی ضامن بن سکتی ہے۔
انٹرویو سے پہلے Mock Interview لازمی دیں، وہ آپ اپنے کسی جاب ہولڈر دوست یا کسی ٹیچر کو بھی دے سکتے ہیں، دوران انٹرویو آپ کی کمیونیکیشن سکلز بھی دیکھی جاتی ہیں، آپ کس طرح سے سوالا ت کا جواب دیتے ہیں، آپ کی باڈی لینگوئج، آپ کے تاثرات یہ سب انٹرویو پینل نوٹ کر رہا ہوتا ہے، اور کچھ ادارے تو باقاعدہ ایک ماہر سائیکالوجسٹ بھی پینل میں بٹھاتے ہیں جس کا کام اوپر دی گئی چیزوں کو چیک کر نا ہوتا ہے، یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جواب دیتے ہوئے آپ کنفیوز تو نہیں ہو رہے، یا پھر ایک نہایت اہم سوال کیا جاتا ہے جس کے بارے میں بہت کم Candidates پہلے سے تیاری کر کے جاتے ہیں کہ آپ کے اگلے پانچ سال کے کیرئیر گولز کیا ہیں، اس سوال کا جواب ہمیشہ ضرور تیار کر کے جائیں۔
جب بھی انٹرویو کے لیے جائیں تو اچھی ڈریسنگ میں جائیں ، ہمیشہ پر اعتماد رہیں، کبھی بھی پورے ٹائم پر انٹرویو میں مت جائیں بلکہ کوشش کریں کہ آدھا گھنٹہ پہلے وہاں پہنچیں تاکہ وہاں کے ماحول سے آپ مانوس ہو سکیں،دوران انٹرویو پرسکون رہیں، سوالات کا جواب دیتے ہوئے تھوڑا سوچ سمجھ کر جواب دے سکتے ہیں ، اور اگر کسی سوال کا جواب نہیں آتا تو ٹائم ضائع کیے بغیر آپ سوری بول سکتے ہیں۔ انٹرویو ختم ہونے کے بعد آپ پینل کو تھینک یو کہتے ہوئے با ہر آجاتے ہیں۔
اب اگر آپ کا انٹرویو بہت اچھا ہوا ہے اور آپ اپنے انٹرویو سے مطمئن ہیں، آپ نے کمپنی کے بارے میں بہت اچھی ریسرچ کر لی اور اس میں کسی بھی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی،آپ نے اس انٹرویو کے لیے دن رات تیاری کی،آپ نے Mock Interviews بھی دیے ، اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش بھی کی اور دعائیں بھی کیں اور خدانخواستہ پھر بھی کمپنی آپ کو ہائر نہیں کرتی تو یہ سوچیے کہ اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوا، آپ نے اس انٹرویو سے کچھ نہ کچھ ضرورسیکھا ہوگا، آپ جتنا اچھا پرفارم کر سکتے تھے، آپ نے کیا اور وہ بھی کمپنی کے فائدے کے لیے کہ انہیں آپ کی شکل میں ایک اچھا Candidateمل جائے، پھر بھی اگر کمپنی آپ کو ہائر نہیں کرتی تو اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں بلکہ کمپنی کا نقصان ہے جس نے آپ جیسے باصلاحیت نوجوان کو ہائر نہیں کیا،کبھی ہمت نہ ہاریے، یاد رکھیے صرف ایک چانس میں ہی زندگی نہیں ہوتی بلکہ زندگی میں بہت سے اور چانسز آتے رہتے ہیں، اگر آپ چار سے پانچ بار ناکام ہوبھی جاتے ہیں تو جب آپ چھٹی بار کامیاب ہوں گے توآپ کی پہلی تمام ناکامیوں کا مداوا ہو جائے گا، کیونکہ قدرت کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں کرتی۔ اور با صلاحیت لوگ بہت جلدی اپنی منزل کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ کوشش کرتے رہیے۔ اگر انٹرویو کے حوالے سے مزید کوئی سوالات ہوں تو آپ ای میل یا فیس بک پر رابطہ کر سکتے ہیں۔