ہوشربا مہنگائی کی وجہ سے کتابوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہورہی ہیں

دنیا نیوز۔ فوزیہ پرویز کراچی (رپورٹ ۔اسمائایوب خان )پاکستان میں کتاب سے قاری کا رشتہ بتدریج کم ہوتا جارہا ہے اور اس کی ایک وجہ انٹر نیٹ بتائی جاتی ہے اس خیال کے درست یا غلط ہونے اور مطالعے کے رجحان میں کمی کی وجوہ جاننے کے لیے روزنامہ ‘‘دنیا’’ نے ایک سروے کیا جس میں مطالعے کی اہمیت معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اردو بازار کراچی کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ کتابوں کی بڑی تعداد ردی کا ڈھیر ہو رہی ہے ۔طلبہ و طالبات صرف کورس کی کتابیں خریدنے آتے ہیں، بقیہ کتابیں صر ف د کان میں موجود الماریوں کی نظر ہو کر رہ گئی ہیں ،دوسری جانب طلبہ و طالبات کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں کورس کی کتابوں کا بوجھ اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ دوسری کتابوں کو پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔کتابوں کے رجحان میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ موبائل ، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی بھی اس کی ایک وجہ ہے ۔ پہلے جن کے ہاتھوں میں کتابیں نظر آتی تھیں ، اب ان کے ہاتھوں میں موبائل ، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ وغیرہ نظر آتا ہے ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کتابوں کا نعم البدل ہے ۔ اس لیے اب کتابوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔دور حاضر میں جہاں مطالعے کا رجحان ختم ہو رہا ہے وہیں ہم کتابوں کی افادیت سے انکار نہیں کر سکتے ،کتابیں اس وقت بھی انٹر نیٹ سے زیادہ “مستند ” ہیں۔اس سلسلے میں لیکچرار فوزیہ پرویز کا کہنا تھا کہ کتابوں سے دوری کا رجحان استاد اور شاگرد کے لیے نقصان دہ ہے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سہولیات نے دنیا کو محدود کر دیا ہے مگرمطالعے کے بغیر قلم کے میدان میں ایک قدم بھی بڑھانا نہایت مشکل ہے ،ان کا کہنا تھا کہ مطالعے سے دوری کی ایک وجہ ہوشربا مہنگائی بھی ہے جس کی وجہ سے کتابوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہورہی ہیں۔