لائبریری
یہ برفیلی لائبریری آٹھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے

روس کے علاقے سائبیریا میں واقع بیکال جھیل کے کنارے ایک نئے سیاحتی مقام کے لیے برف کے بڑے بڑے بلاکس پر ایک ہزار لوگوں کے خواب اور امیدیں کنندہ کی گئی ہیں۔

مقامی سیاحت کے سربراہ اور اس ‘آئس لائبریری’ کے منتظم میکشن خووسٹشکلوف نے اخبار کومسومولسکایا پراوڈا کا بتایا کہ ’گذشتہ سال ہم نے اعلان کیا تھا کہ اہم بھول بھلیوں والی ایک برفیلی لائبریری بنائیں گے، اور لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے خواب اور خواہشیں ہمیں لکھ بھیجیں۔‘

انھیں موصول ہونے والے پہلی ایک ہزار فرمائشوں کو برف کے بڑے بڑے بلاکس پر کنندہ کیا گیا ہے اور انھیں اس انداز میں رکھا گیا ہے کہ یہاں آنے والے برف کے ان بلاکس کی بھول بھلیوں میں بھٹک جائیں اور لوگوں کے پیغامات دیکھیں۔

اس لائبریری کے لیے روس سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اپنی خواہشات بھیجیں۔ میکسم خووسٹشکوف کے مطابق ایک چینی کی خواہش ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنا تھی، ایک فرانسیسی پیار میں ڈوب جانا چاہتا تھا اور ایک کینیڈین کا خواب لاٹری جیتنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سارے لوگ اپنے خاندان کی صحت چاہتے تھے، کچھ بچوں کی خواہش رکھتے تھے اور ایک جنگ کے بغیر دنیا دیکھنا چاہتے تھے۔‘

یہ برفیلی لائبریری آٹھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور بیکالسک قصبے کے نزدیک ایک سکی اینگ رزارٹ کے قریب واقع ہے۔ اس لائبریری کا قیام کا مقصد سیایوں کی توجہ اس علاقے کی جانب مبذول کروانا ہے۔

خیال رہے کہ بیکال جھیل دنیا کی گہری ترین جھیل اور اس کا شمار یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی کیا جاتا ہے۔

اس لائبریری کے برفیلے ’صفحوں‘ پر کچھ مقامی لوگ بھی اپنی خواہشات کنندہ دیکھنے آئے۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ خوش ہیں کہ ان کی نیوزی لینڈ میں وہ مقامات دیکھنے کی خواہش پوری ہوئی جہاں فلم ’لارڈ آف دی رنگز‘ کے مناظر فلمائے گئے تھے۔

مقامی سیاحتی ایسوسی ایشن کی جانب سے ابھی بھی اس لائبریری کے لیے خواہشات موصول کی جارہی ہیں۔

تاہم یہ لائبریری زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی جیسا کہ کومسومولسکایا پراوڈا اخبار میں بتایا گیا ہے کہ ‘جب اپریل میں موسم گرم ہوگا، دنیا بھر کے لوگوں کے خواب چشموں کی صورت پگھل جائیں گے اور جھیل بیکال میں بہہ جائیں گے۔’

بشکریہ: بی بی سی