lhcلاہور.لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے قائد اعظم لائبریری کے بورڈ آف گورنرز کے ارکان کی تعیناتیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر حکومتِ پنجاب، چیف سیکریٹری، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر فریقین سے 17 دسمبر تک جواب طلب کر لیا۔قائد اعظم لائبریری کے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر حکومتِ پنجاب، چیف سیکریٹری، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر فریقین سے 17 دسمبر کیلئے جواب طلب کر لیا۔محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بحیثیت ممبر قائد اعظم لائبریری عطاء اللہ قاسمی عامر رضا خان، مہر جیون خان، عنائت اللہ، ڈاکٹر عارفہ سعیدہ ظاہرہ، پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ مریم، سائرہ افضل تارڑ، عارفہ سبوہی کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب غیر قانونی و غیر آئینی طور پر پنجاب گورنمنٹ ایجوکیشنل اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوشن آرڈیننس 1960ء کے تحت قائد اعظم لائبریری کے حالیہ ممبران 27 نومبر 2012ء کو 3 سال کیلئے مقرر کئے گئے جبکہ تعیناتیاں کرتے ہوئے میرٹ کو نظر انداز کیا گیا پسند اور ناپسند کی تعیناتیاں کی گئیں اور کئی ممبران قائد اعظم لائبریری کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ جس آرڈیننس کے تحت یہ تقرریاں کی جارہی ہیں اْس آرڈیننس کا مقصد سکولوں، کالجوں اور ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز میں تعیناتیاں کرنا ہے اِس آرڈیننس کے ذریعے قائد اعظم لائبریری میں تعیناتیاں نہیں کی جاسکتیں۔اِس لئے یہ تمام تقرریاں کالعدم قرار دی جائیں۔ چنانچہ حکومتِ پنجاب کو ہدایات جاری کی جائیں کہ قائد اعظم لائبریری سمیت دیگر لائبریریوں کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے چلانے کیلئے علیحدہ قانون سازی کا حکم دیں۔