اسلام آباد(4مئی 2015ء) حمدو نعت اور غزل کی دنیا کے نامور شاعر شاہنواز سواتی کا اولین مجموعہ کلام ’’ہم تو چپ تھے‘‘ کے نام سے منزل پبلی کیشنز اسلام آباد کے زیر اہتمام معیاری پیپر اور بہترین تزئین و طباعت کے ساتھ شائع ہو گیا ہے۔ شاعر نے انتساب اپنے مرحوم والدین کے نام کیا ہے ۔ سرورق ساجدہ حسین کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 176صفحات کے اس شعری مجموعے کی قیمت 280روپے ہے ۔ شاعر پیشے کے اعتبار سے بینکار ہیں۔ وہ 1987 سے 1992تک بینک کی طرف سے ماریشس میں رہے جہاں انہوں نے فروغِ اُردو کے سلسلے میں گرانقدر خدمات انجام دیں جس کے اعتراف میں ماریشس کی حکومت نے تعریفی سند عطا کی۔ ان دنوں وہ الخیر یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ ’’ہم تو چُپ تھے ‘‘ میں سلطان سکون ، آصف ثاقب اور پروفیسر بشیر احمد سوز کی وقیع آراء ایک سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ سلطان سکون نے شاعر کی چھوٹی بحر کی غزلیات کے بارے میں لکھا ہے کہ شاہ نواز سواتی نے دریا کو کُوزے میں بند کر کے دکھایا ہے۔