Google steht vor größtem literarischen Coupنیویارک  (آن  لائن)  امریکی عدالت نے گوگل کو لاکھوں کتابوں پر مشتمل ڈیجیٹل لائبریری قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ا س سے مصنفین کے کاپی رائٹس مثاتر نہیں ہوتے۔ سیکنڈ سرکٹ کی کورٹ آف اپیلز کے جج پئیری این کیول نے کہا ہے کہ نقل تیار کرکے گوگل پر منتقل کرنے سے اشاعت کی مارکیٹ متاثر نہیں ہوگی۔کورٹ آف اپیلز نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے گوگل کو ڈیجیٹل لائبریری میں محدود مواد ڈالنے کی اجازت دیدی ہے۔گوگل اپنے منصوبے کے تحت برٹش لائبریری اور لائبریری آف کانگریس سمت اہم اور قابل ذکر لائبریریز سے منتخب کتابیں اور تحریری مواد گوگل ڈیجیٹل لائبریری میں ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دو سال قبل بھی ماتحت عدالت نے مصنفین کے گلڈ کی جانب سے دائر کردہ کیس میں بھی گوگل کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔مصنفین کا گلڈ دس سال سے گوگل کے خلاف مقدمہ لڑ رہا ہے ۔ مصنفین گلڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کورٹ آف اپیلز کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کریں گے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مصنفین گلڈ کی سربراہ میری ریزن برگر کا کہنا ہے کہ امریکا اپنی ادبی ثقافت کو کاپی رائٹ کے قانون کے تحت تحفظ دیئے ہوئے ہے عدالت کی جانب سے مصنفین کے موقف کو سمجھے نہ جانے پر مایوسی ہوئی ہے۔ گوگل نے 2004سے دو کروڑ کتابوں کو سکین کرکے ڈیجیٹل لائبریری میں ڈالنے کے منصوبے کا آغاز کیا تھا جن تک صارفین گوگل بک کے ایپ کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں –