10833563_699881526774032_1998971930_nسرگودھا﴿روزنامہ ایکسپریس ﴾سرگودھا میں تشنگان علم کی پیاس بجھانے کے لئے 1920 میں کمپنی باغ جناح ہال میں میونسپل لائبریری کا قیام عمل میں آیا،جس کا افتتاح اس وقت کے ڈپٹی کمشنر شاہ پور نیاز احمد نے کیا تھا۔1976 میں برصغیر پاک و ہند کے بڑے شاعر مرزا غالب کے صد سالہ تقریبات کے سلسلہ میں میونسپل لائبریری کا نام غالب لائبریری رکھ دیا گیا۔لیکن بد قسمتی سے کتاب دوستی سے اجتناب، کتاب بینی سے اکتاہب اور موجودہ دور کے جدید ذرائع ابلاغ میں مگن عوام کی طرف سے اس لائبریری سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی-

لائبریری میں اس وقت اردو ، انگریزی ادب، تاریخ، اسلام، فارسی اور عربی کی بیش قیمت کتب موجود ہیں، جب کہ لائبریری کی زینت دیوان داغ جو 1906 میں لکھی گئی تھی بھی عوام کے لئے دستیاب ہے،اگرچہ لائبریری میں ہر موضوع پر کتابیں موجود ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ 50 ہزار کتب کی گنجائش والی لائبریری میں اس وقت صرف 20 ہزار کتابیں ہیں۔ یہ ڈویثرن کے چار اضلاع سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کی 60 لاکھ آبادی کے لئے واحد پبلک لائبریری ہے، جو اس وقت بد ترین مسائل کا شکار ہے۔لائبریری کیلئے سالانہ 27 لاکھ 47 ہزار 561 روپےبجٹ مختص کیا جاتا ہے جس میں اخبارات اور نئی کتب کی خریداری کے لئے تقریبا 2 لاکھ روپے مختص کئے جاتے ہیں جو جدید دور کے تقاضوں کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہیں،جب کے باقی بجٹ تنخواہوں، یوٹیلٹی بلز اور دیگر مدات میں خرچ کر دیا جاتا ہے۔ لائبریری میں روزانہ درجنوں افراد آتے ہیں لیکن موجودہ دور کے جدید علوم پر مشتمل کتب کی عدم دستیابی کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے-جو افراد ایسی کتب کا مطالعہ کرنے کی لئے آتے ہیں ان کو ناکام واپس لوٹنا پڑتا ہے-