13 (1)

بیونس آئرس: علم حاصل کرنے اور اسے پھیلانے کا شوق ان لوگوں میں ہی پایا جاتا ہے جو علم سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیے بعض لوگ کچھ بھی کر جانے کو تیار رہتے ہیں ایسا ہی ایک علم پھیلانے کا جذبہ رکھنے والے ارجنٹینا کے آرٹسٹ نے کیا جس نے علم کی روشنی پھیلانے کے لیے ایک گاڑی پر لائبریری بنائی جس پر لدی ہوئی کتابیں وہ ہر اس شخص کو فراہم کرتے ہیں جو انہیں پڑھنے کا وعدہ کرتا ہے۔
راول لیمیسوف نامی اس علم دوست شخص نے 1979 کی فورڈ کار کو ایک جنگی ٹینک کی شکل دے رکھی ہے جس کے آگے ٹینک کی طرح ایک پائپ لگایا گیا ہے جو کار کو توپ کی شکل دیتا ہے۔ گاڑی کے اندر اور باہر 900 کتابوں کے لیے جگہ بنائی گئی ہے اور یہ کتابیں عطیہ کرنے کے لیے ہیں تاہم یہ کتابیں ایسے افراد کو مفت فراہم کی جاتی ہیں جو انہیں پڑھنے کا وعدہ کرتے ہیں۔
لیمیسوف ہفتے میں کئی مرتبہ بیونس آئرس کی سڑکوں پر نکلتے ہیں جس پر کئی لوگ ان سے کتابیں پڑھنے کا وعدہ کرکے کتابیں مفت لے جاتے ہیں ۔ لیمیسوف نے اپنی کار کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ اس میں سینکڑوں کتابیں باآسانی سماسکتی ہیں اور وہ گاڑی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں جب کہ وہ اپنی اس ٹینک نما گاڑی کو لے کر جہاں بھی جاتے ہیں ان کے ارد گرد لوگوں کا ایک میلہ سا لگ جاتا ہے ۔ لیمیسوف کی اس چلتی پھرتی لائبریری میں ہر عمر اور ہر طبقے کے لیے کتابیں موجود ہیں جن میں ناول اور سوانح حیات سمیت حالاتِ حاضرہ پر بھی کتابیں موجود ہیں ۔ لیمیسوف اپنے اس علم دوست مشن کو دنیا بھر میں پھیلانے کے خواہشمند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ادب و علم کے ذریعے دنیا میں امن قائم کیا جائے۔

31