تحریر: نائلہ صدیقی، ڈپٹی مینیجر لائبریری، فاسٹ یونیورسٹی، لاہور
انسانی بقا کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ ہر انسان کا وجود دوسرے کے لیے مستفید ہو کارآمد ہو ۔ جب ہم سب ایک ساتھ مل کر چلتے ہیں تو معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
لائبریری میں حوالہ جاتی خدمات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔اور لائبریری کی سروسز کو جانچنے میں سب سے زیادہ کردار حوالہ جاتی خدمات کا ہوتا ہے جتنی زیادہ یہ خدمات بخوبی سرانجام دی جائیں گی اتنی ہی اس لائبریری کی شہرت کا گراف اوپر ہو گا۔
آج میں پھر آپ سے اپنا ایک ذاتی تجربہ شیئر کرنا چاہوں گی ۔ایک وقت تھا جب لمز لائبریری ایکسٹرنل ممبر شب کے ذریعے 64 آن لائن ڈیٹا بیس کی رسائی مہیا کرتی تھی ۔ اس ممبر شپ کی فیس بھی انتہائی معقول تھی ۔ یہ ان لائبریریز کے لیے انتہائی معقول ثابت ہوئی جہاں پر بجٹ کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ان ڈیٹا بیسز کی خرید کی طرف قدم بڑھانا بڑا مشکل متصور ہوتا تھا۔لہذا ہم نے بھی ان کی اس سروسز سے فائدہ اُٹھایا۔ اور اپنے قارئین کی ضروریات کو بااحسن پورا کیا۔ پھر اچانک پاکستان لاسائٹ والوں نیلمز لائبریری کی اس سروسز پر اعتراض کی اوراسے یہ سروس بند کرنی پڑی۔
اب لائبریریز کے لیے اپنے قارئین کو ان کے مواد کی طرف رسائی دینا ان تمام لوگوں کے لئے بہت مشکل ہو گیا جو لمز لائبریر ی کی اس سروس سے مستفید ہورہے تھے۔ کیونکہ ان کی مینجمنٹ کے لیے بجٹ ان ڈیٹا بیسز کے لیے مختص کرنا بہت دشوار تھا ۔اور لائبریرینزکو جو سب سے بڑی پریشانی تھی کہ وہ کیسے اپنے قاری کے لیے مواد کی رسائی کو ممکن بنا سکیں ۔ لہذا اب میں آپ کو بتاتی ہوں کہ میں نے کیسے اس پریشانی کا تدارک کیا۔
جب کبھی مجھے سائنس ڈائریکٹ، ایمرالڈ، ویلے،جے سٹور وغیرہ سے آرٹیکلز کی ریکوسٹ آتی پہلے میں اسے گوگل اور گوگل سکالر پر سرچ کرتی۔ بعض اوقات کچھ موادمفت مل جاتاتھا اگر نہیں ملتا تھا تو پھر میں فیس بک پر موجود لائبریری فیلوز سے ریکوئسٹ کردیتی تھی ۔سمن کے ایف یو پی ایم اور یونیورسٹی میں مقیم پاکستانی لائبریرینز کو ریکوئسٹ کردیتی تھی اس طرح سے اپنے قارئین کو وہ میٹریل مہیا کرتی تھی ۔
پھر مجھے کسی نے بتایاکہ ریسرچرز کے لیے فیس بک پر ایسے پلیٹ فارم دستیاب ہیں جنہیں جوائن کرنے کے بعد آپ اس گروپ میں موجود ممبرز سے ریکوسٹ کر سکتے ہیں کہ مجھے اس مواد کی اشد ضرورت ہے تو وہ فوراًآپ کو وہ مواد مہیا کر دیتے ہیں ان گروپس جو میں بہت مدد گار ہیں۔
وہ یہ ہیں۔
Research Articles Books and Literature
Scientific Research Articles, Books & Literature
آپ ان گروپس سے اپنے قارئین کے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اگر ان پر کوئی اور آپ سے مدد کا متقاضی ہے اور آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں تو آپ وہ بھی کر سکتے ہیں کیونکہ لین دین میں بیلنس ہو تو ہی کام کا مزہ آتا ہے۔
فیس بک پر اپنی لائبریری کا پیج بنا سکتے ہیں اور لائبریری میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کو اس پیج کے ذریعے کوریج دے سکتے ہیں۔آج کل کے دور میں چپ چاپ کام کرنے والے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی آپ کو ئی چھوٹا سا کام کریں مگر اس کی پریزنٹیشن کا انداز منفرد ہو تو وہ کام بہت شہرت اختیار کر لیتا ہے۔لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ فیس بک کے ذریعے آپ اپنی سروسز کی تشہیر کر سکتے ہیں ۔ اور اپنے قارئین کو اجتماعی طور پر اپنی سروسز سے آگاہی دے سکتے ہیں۔
فیس بک بطور سوشل میڈیا ان دنوں بہت زیادہ شہرت اختیار کر گیا ہے۔ ہر چیز کے کچھ مثبت پہلو ہوتے ہیں۔ اور کچھ منفی اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فیس بک صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے اور کچھ نہیں ۔لوگوں کی اس بات سے نہ تو مکمل طور پر انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی قبول کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ میں نے فیس بک کو اپنے ریسرچرز، سکا لرز اور عام قاری کے لیے بے حد مفید پایا ہے ۔ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کے ساتھ روابط ہو جاتے ہیں۔اور ان سے اپنی لائبریری میں ہونے والے معاملات اور مشکلات پر بات کر سکتے ہیں ۔اس کے ذریعے سے نہ صرف ان کے حل نکال سکتے ہیں بلکہ لوگوں کے بھی کسی نہ کسی حد تک کام آسکتے ہیں۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ ہر چیز کے مثبت پہلووؤں کا جائز لیں اور اپنی زندگی میںانہیں شامل کریں۔ آپ کی زندگی پر اس کے مثبت اثرات پڑنا شروع ہو جائیں گے۔ اللہ آپ کو آسانیاں دے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین

نوٹ: اگر آپ بھی اسی طرح کے اپنے مشاہدات پروفیشنلز کے ساتھ شئیر کرنا چاہیں تو ہمیں ارسال کر سکتے ہیں۔