564425_599615300076847_1654559606_nلاہور۔ کتاب سے زیادہ وفادار دوست کوئی نہیں، کتاب نہ صرف انسان کو قید تنہائی سے دور کرتی ہے بلکہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے، ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا، انہوں نے کہا اچھے مصنفین اور اچھی کتابوں کی کمی، کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ، ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ کا بے تحاشا استعمال کی وجہ سے نئی نسل کتاب سے دور ہورہی ہے، ہم اپنے دوستوں کو موبائل، لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتی تحائف دیتے ہیں ہمیں چاہیے کہ اپنے دوست احباب اور بچوں کو تحفے میں کتابیں دیں ، دنیا میں ان قوموں نے ترقی کی ہے جنہوں نے کتاب کو اہمیت دی، لائبریریاں بنائیں اور پھر ان لائبریریوں کو معیاری کتب سے مزین کیا اور کتابوں کی قیمتیں کم رکھیں۔ کتاب سے دوری کی وجہ سے جہالت اور پسماندگی میں اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان میں کاپی رائٹ ایکٹ 1962ء سے نافذ العمل ہے مگر اس پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہو رہا ۔ جس سے مصنفین کی حق تلفی ہو رہی ہے جس سے وہ دلبرداشتہ ہو کر تخلیقی عمل سے دور ہو جاتے ہیں، لائبریریوں میں تربیت یافتہ عملہ رکھا جائے اور پنجاب بھر کی لائبریریوں میں خالی آسامیاں فوری طور پر پر کی جائیں، کتاب ملک میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں لائبریری سسٹم کو منظم کیا جائے۔