copy-right-670نقل کبھی بھی تعریف کرنے کا پرخلوص طریقہ نہیں رہا ، اور جب بات کتابوں کی آتی ہے تو ایسا کبھی بھی نہیں ہوا- پائریسی، پاکستانی پبلشروں کے لئے ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے اور مصنفین یہ جنگ ایک عرصے سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی یہ جاری و ساری ہے – دانشوارانہ اثاثی حقوق کی حفاظت کی رہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پائریٹڈ کتابیں بہت سی دکانوں پر مل جاتی ہیں۔

 قارئین خاص طور سے طالبعلم ایسی پائریٹڑ  کتابیں خریدنا درست سمجھتے ہیں چونکہ اس حوالے سے نہ ہی کوئی دیکھ ریکھ کی جاتی ہے اور نہ ہی لوگوں کو علم ہے کہ اس کا پبلشنگ پر کتنا منفی اثر پڑتا ہے۔

 معاملہ اور بگڑ جاتا ہے جب مقامی جلدیں جو نہ ہی زیادہ مہنگی ہیں اور آسانی سے دستیاب بھی ہو جاتی ہیں، پائریٹڈ ہیں ، اور یہ مصنفین کو اپنا تخلیقی سفر جاری رکھنے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔

 آصف فرخی کہتے ہیں کہ ” ایک مصنف کی حیثیت سے مجھے لگتا ہے پائریسی کے لئے کوئی اخلاقی ضابطے نہیں ہیں، اور آپ اس کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکتے – یہ مصنفوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ اس طرح ہم رائلٹیز کا دعویٰ نہیں کر سکتے – “

 آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سعید اس بات کی تصدیق کرتی ہیں ،” اگر پائریسی کو اسی طرح چلتے رہنے دیا گیا تو وہ وقت جلد ہی آۓ گا جب تخلیقی صلاحیت کے ملک مرد و خواتین کو اپنی دانشوارانہ محنت کا کوئی انعام نہیں ملے گا ، انہیں مجبوراً اپنی گزر اوقات کے لئے ملازمتیں کرنی پڑیں گی ، اس کا مطلب انکو اپنے تخلیقی کاموں کے لئے بہت کم یا شاید بلکل ہی وقت نہ مل پاۓ -“

 دوسری طرف قارئین کی اپنی شکایات ہیں – کتابیں ،مقامی طور پر مطبوعہ بھی کبھی کبھار حد سے زیادہ مہنگی ہوتی ہیں ، اس کے بعد کوئی چارہ نہیں رہتا کہ پائریسی سے فائدہ اٹھایا جاۓ –

” میں ایک طالبعلم ہوں ، میرا جیب خرچ محدود اور پڑھنے کا شوق بیحد ہے، چناچہ اصلی جلدیں خریدنا سوچ سے باہر ہے -“

شہریار کہتے ہیں .” پبلشنگ گھروں کو بھی تھوڑا اگر آنا چاہیے ، اور پیداواری لاگت کو کم کر کے پائریٹڈ جلدوں کے برابر لانا چاہیے – پھر ہم یقیناً اصلی کتابیں ہی خریدیں گے -“

 یہ بھی سچ ہے کہ آبادی کا  بہت مختصر حصّہ اصلی جلدیں خرید سکتا ہے لیکن اسکا جواب پائریسی ہرگز نہیں ہے –  شاید اس کا بہترین حل یہ ہے کے ہر علاقے میں کتب خانے بناۓ جائیں جس نے نہ صرف پڑھنے والوں کا معیار بڑھے گا بلکہ ذہنی حقوقِ ملکیت ( آئی پی آر) کی خلاف ورزی بھی روکی جاسکے گی۔

 امینہ سید یہ بھی کہتی ہیں کہ سب سے اہم یہ کہ ہمیں لوگوں کے خیالات کو بدلنا ہوگا جو یہ سمجھتے ہیں کہ چور رابن ہڈ ہوتے ہیں جو پڑھنے سے محروم لوگوں کے لئے نۓ راستے نکالتے ہیں – قارئین کو اس بات کا احساس دلانا چاہیے کہ وہ پائریسی کی حمایت کر کے پبلشنگ صنعت کو نقصان پنہچا رہے ہیں جو پہلے ہی پڑھنے والوں کی گھٹتی ہوئی تعداد سے متاثر ہے۔

 اس حوالے سے قوانین دوبارہ بناۓ جائیں اور انکا اطلاق کروایا جاۓ ،ایسی دکانوں پر باقاعدہ چھاپے مارے جائیں جو پائریٹڈ کتابیں رکھتی ہیں۔

Courtesy: www.dawnnews.tv