Kitabain-bolti-hain-128x202یہ سماجی رابطے کی سائیٹس اب محض اُچٹے ہوئے رابطوں اور اُتھلی گفتگو ئوں کا نشان نہیں رہے کہ یہاں سنجیدہ مکالمہ بھی فروغ پانے لگا ہے۔ رضاء الحق صدیقی کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اِنٹرنیٹ پر سنجیدہ ادبی مکالمے کی فضا بنانے میں اپنا لائق اعتنا حصہ ڈالا ہے۔ اس باب میں انہوں نے تحریر اور تصویر دونوں سے کام لیا ہے۔’’کتابیں بولتی ہیں ‘‘ میں جمع کردی گئی یہ تحریریں ان کی ایسی ہی سنجیدہ اور تعمیری کو ششوں کا ثبوت ہیں۔ صدیقی صاحب نے یوں کیا ہے اپنے ذوق اور ترجیحات کے مطابق شاعری یا نثر کی کوئی کتاب اُٹھائی، اُسے پڑھا، سمجھا اوراس مطالعہ میں اوروں کو شریک کرنے کے لیے ایک ویڈیو تیار کی جس میں وہ خود اُس کتاب کا تعارف کراتے نظر آتے ہیں ۔ ایسی ویڈیوز کو انہوں نے انٹر نیٹ پر اپنی سائٹ پر اَپ لوڈ کر دیا اور اس کے لنکس سماجی رابطوں کی سائٹس پر بھی فراہم کر دیے۔ ان بولتے کالموں میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ بات طویل نہ ہو، اپنے موضوع سے جڑی رہے اور سامع کو بھی اپنی گرفت میں رکھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس باب میں وہ بہت کامیاب رہے ہیں ۔اب ان ادبی کالموں کو کتابی صورت میں فراہم کر دیا گیا ہے ۔ اس مجموعے میں شامل تحریروں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ خود ادب کے بہت سنجیدہ قاری ہیں اورنثر اور نظم دونوں ان کے مرغوب علاقے ہیں ۔ کسی بھی کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کوشش کی ہے کہ صاحب کتاب کے دیگر کام کو بھی دیکھ لیا جائے ۔ مجموعی طور پر ان کا نقطہ نظر مثبت رہا ہے۔ انہوں نے جہاں صاحب کتاب، کتاب اور اس کے مندرجات کاتعارف اپنے سامعین(اور اب قارئین) کے سامنے رکھا وہاں وہ تخلیقات پر بات کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی حوالوں کو بھی نشان زد کرتے چلے گئے ہیں جس سے ا ن کالموںکی افادیت دوچند ہو جاتی ہے۔ کتاب دیدہ زیب تزئین و آرائش کے ساتھ بک کارنر، شو روم، بالمقابل اقبال لائبریری، بک سٹریٹ، جہلم نے شائع کی ہے،224صفحات کی اس کتاب کی قیمت 600 روپے ہے۔

(محمد حمید شاہد ،اسلام آباد )