زاہدہ حنا

books are deadکتابوں کی بھی عجب کہانی ہے۔ ایک طرف وہ سر آنکھوں پر رکھی جاتی ہیں اور دوسری طرف جلا کر راکھ کر دی جاتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک ہی زمانے میں ہو رہا ہے۔

اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا نصف آخر ہے اور کیا کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دلی ہر طرف ادب کا جشن منایا جا رہا ہے۔ نئی کتابوں کی شوبھا دکھائی دے رہی ہے۔ پرانی کتابوں کی بھی پذیرائی ہو رہی ہے۔

کراچی وہ شہر ہے جو بہت دنوں سے دہشت گردی، قتل و غارت گری کا شکار ہے اور جہاں ایک منٹ کے اندر شہر کے کوچہ و بازار بند ہو جاتے ہیں، یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ بند کرا دیے جاتے ہیں، وہاں بھی کتابوں کی نمائش کا اہتمام ہو تو قتل و غارت کے واقعات کے باوجود عورتیں اور مرد اپنے بچوں کو ساتھ لیے جوق در جوق ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔ کتابیں اپنے لیے خریدتے ہیں اور ان کے بچے بھی ذوق شوق سے کتابیں خریدتے نظر آتے ہیں۔

ایسے زمانوں میں نیشنل بک فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کا نامہ ملا کہ میں کراچی آ رہا ہوں اور فائونڈیشن کے نئے کتاب گھر کا افتتاح کرانے والا ہوں۔ آپ کا آنا لازمی ہے۔

بات ان کی درست تھی۔ نیشنل بک فائونڈیشن نے مجھے ’’کتاب کا سفیر‘‘ مقرر کیا ہے۔ اس عزت و اعزاز کے بعد یہ کیسے ممکن تھا کہ میں وہاں نہ جاتی۔ پاکستان ٹیلی ویژن اسٹیشن اور لیاقت میموریل لائبریری سے متصل کھلنے والے اس کتاب گھر کا ایک جائزہ ہم نے اب سے چند مہینوں پہلے اس وقت لیا تھا جب اس کے مینجنگ ڈائریکٹر انعام الحق جاوید پہلی مرتبہ کراچی آئے تھے اور انھوں نے ہمیں اس جھاڑ جھنکار کو دکھایا تھا جو فائونڈیشن کے عقبی حصے میں دور تک پھیلا ہوا تھا۔

چند مہینوں بعد کل جو اس جگہ کو دیکھا تو وہاں سبزے کی بہار تھی اور اس پر ایک نگاہ ڈالتے ہی اندازہ ہورہا تھا کہ انعام الحق جاوید نے جو کہا تھا وہ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کر دکھایا ہے۔ وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ گزشتہ 8 مہینوں میں فائونڈیشن نے 126 نئی کتابیں شایع کی ہیں جن میں سے بعض کے تیسرے اور چوتھے ایڈیشن بھی آ گئے ہیں۔

انھوں نے 2015ء کا 365 اوراق کا ایک غزل کیلنڈر بھی شایع کیا ہے جس پر میں پہلے بھی تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔ اس مرتبہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ اردو کی مشہور اور مستند لغت ’’نور اللغات‘‘ کی اشاعت ہے۔ یہ لغت جو ایک اشاعتی ادارہ اپنے خریداروں کو مبلغ سات ہزار روپے میں دے رہا ہے، اسے فائونڈیشن نے 2 جلدوں میں شایع کیا ہے اور اس کی قیمت صرف 900 روپے ہے۔

اگر آپ نیشنل بک فائونڈیشن کلب کے ممبر ہیں تو آپ کو اس پر 55%  رعایت ملے گی اور اسے آپ صرف 450 روپے میں خرید سکیں گے۔ انھوں نے یہ بتایا کہ فائونڈیشن نے فروری 2013ء سے جنوری 2014ء تک 24 کروڑ 60 لاکھ کی کتابیں فروخت کیں اور جنوری 2014ء سے اب تک 27 کروڑ روپے کتابوں کی فروخت سے مل چکے ہیں۔

یوں تو اس کتاب گھر کے افتتاح کی تقریب کے انتظام و انصرام میں کئی لوگ شریک تھے لیکن اجمل سراج اور عقیل عباس جعفری ان میں پیش پیش تھے۔ تقریروں، تصویروں اور گرما گرم چائے کے بعد ہم سب نے اس نئے کتاب گھر کا پھیرا لگایا۔ جی خوش ہوا کہ قاعدے اور سلیقے سے رکھی ہوئی کتابیں اپنی شوبھا سے دل کھینچ رہی ہیں اور بہت سے لوگ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کتابیں منتخب کر رہے ہیں۔

اس محفل سے گھر کو چلی تو دل قدرے سنبھل گیا تھا کیوں کہ چند دنوں سے نائیجیریا، تیونس، عراق اور شام سے کتاب دشمنی کی جو خبریں آ رہی ہیں وہ ناقابل یقین ہیں۔ یہاں میں قدیم اور نادر مجسموں کی تباہی اور عجائب گھروں کی بربادی کا ذکر نہیں کروں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان مجسموں کو ’’بت‘‘ قرار دیتے ہیں اور ان کی توڑ پھوڑ کو عین اسلام قرار دیتے ہیں۔

اس موقع پر یہ وہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ’’بت‘‘ وہ ہیں جن کی پوجا کی جا رہی ہو جب کہ مجسمے ہمارا قدیم تاریخی سرمایہ ہیں۔ اسی لیے میں صرف ان کتابوں کا سوگ مناتی ہوں جو کئی عرب اور افریقی ملکوں میں بوکو حرام، آئی ایس اور ایسی ہی دوسری انتہاپسند تنظیموں کے ہاتھوں برباد کر دی گئیں۔

بوکو حرام کے لڑاکوں کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بام کے علاقے میں جب انھیں اندازہ ہوا کہ انھیں اپنی مخالف فوجوں کے لیے علاقہ خالی کرنا پڑے گا تو پیچھے ہٹتے ہوئے انھوں نے اپنی ان بیویوں کو ذبح کر دیا، یا گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جن سے انھوں نے کچھ دنوں پہلے نکاح پڑھوایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیویوں کو مرتدین کے ہاتھ نہیں لگنے دیں گے، چنانچہ انھیں قتل کر دینا ہی درست ہے۔

ایک ایسی قبائلی اور صدیوں پرانی ذہنیت رکھنے والوں سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ تہذیب، تمدن اور ثقافت کے مختلف مظاہر کے بارے میں کوئی نرم گوشہ رکھیں گے۔

اب سے پہلے مالے میں پندرہویں صدی کے نادر و نایاب عربی مخطوطے جلا کر راکھ کر دیے گئے تھے اور پھر موصل پبلک لائبریری کا بڑا حصہ خاکستر کر دیا گیا، اس خاک میں عربی کے 8 ہزار نادر مخطوطوں کی راکھ بھی شامل تھی۔ یہ کتابیں مسلمانوں کا بیش بہا علمی اور ادبی ورثہ تھیں۔ ان میں وہ کتابیں بھی تھیں جو قرآن، حدیث اور فقہ کے موضوعات سے تعلق رکھتی تھیں اور وہ بھی جو عربی کی شاندار ادبی روایات کا سرمایہ تھیں۔

مشکل یہ ہے کہ ہمارے کچھ لوگ صرف غیر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے ہی ستھرائو کے قائل نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ علم کی مختلف شاخوں اور سائنس کے شعبوں میں ہونے والی تحقیق و تفتیش کو روئے ارض سے نیست و نابود کر دینا چاہیے، اس لیے کہ وہ کاروبار خداوندی میں مداخلت کے مترادف ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنھیں جدید ترین اسلحے، مواصلات کے نت نئے ذرایع اور علاج کے طریقوں سے کوئی اختلاف نہیں۔ کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ ان شدت پسندوں نے اینٹی بائیوٹک ادویات یا مجروح ہونے والے اپنے جسمانی اعضا کی قطع و برید کو غیر اسلامی قرار دیا ہو۔ ایسا وہ اس لیے نہیں کرتے کہ اس کا فائدہ انھیں پہنچتا ہے۔ اسی طرح جدید ترین اسلحہ اور جدید ذرایع نقل و حمل یا مواصلات کی سہولتیں انھیں اپنی خلافت یا سلطنت قائم کرنے اور اس کے پھیلائو میں کام آتی ہیں اس لیے یہ معاملات ’’کفر‘‘ کے زمرے میں نہیں آتے۔

انھیں خوف علم سے آتا ہے، یہ لوگ کتابیں، کمپیوٹر اور تعلیم کے نت نئے ذرایع کو تباہ و برباد کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور نئی ٹیکنالوجی سے واقف مسلمان لڑکے اور لڑکیاں ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہ ہماری نئی نسل ہے جو علم کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے دور کرتی ہے یہ لوگ جو ماضی بعید کے کونوں کھدروں سے نکل کر ہمارے سامنے آ گئے ہیں، یہ اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے اور اپنے ہی علاقوں میں جہل کا پھیلائو چاہتے ہیں۔

ہم کتنی ہی سائنس فکشن فلمیں دیکھتے ہیں جن میں زمین کی گہرائیوں میں دب جانے والے ڈائناسور انڈے نکل کر سامنے آتے ہیں اور ڈائناسور اپنے خول سے نکل کر انسانوں کو تباہ و برباد کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح سوئے ہوئے مہلک جرثومے ہیں جو کسی خاص مرحلے پر جاگ جاتے ہیں اور ہماری تہذیب اور تمدن کو نگلنے لگتے ہیں۔

ایسے تمام فرضی یا حقیقی خطرات سے نجات صرف علم، ٹیکنالوجی اور جدید سائنس کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسلامی دنیا اس وقت ایسے ہی ڈائناسور اور ماضی بعید سے جاگ کر آ جانے والوں کے حصار میں ہے۔ یہ لوگ قتل و غارت پر آمادہ ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جنھیں جدید تعلیم چھو کر نہیں گزری اور جو عالمی انسان برادری کا کوئی تصور نہیں رکھتے اور وہ بھی ہیں جنہوں نے مشرق و مغر ب کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔

انھیں اندازہ نہیں کہ وہ اسلام کو اور مسلم امہ کو کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان کے لیے دنیا میں گنجائشیں کتنی کم کر رہے ہیں۔ اس المناک صورت حال پر آنسو بہانے کے بجائے اس قدامت پرستی اور خرد دشمنی سے لڑنے کے لیے علم پروری اور کتاب دوستی ہمارے سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔

نیشنل بک فائونڈیشن ہو، آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول ہو، کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والی کتابوں کی نمائش ہو۔ یہ تمام محفل آرائیاں، ان میں شریک ہونے والے پانچ سات سال کے بچے اور بچیاں اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ یہ جلا دی جانے والی کتابوں کا سوگ نہیں، کتابوں کا جشن منانے کے دن ہیں۔

وہ سماج جس کا صرف ایک اشاعتی ادارہ ایک برس کے اندر 27 کروڑ روپوں کی کتابیں فروخت کرتا ہو وہاں داعش اور خلافت اسلامیہ جیسی انتہا پسند تنظیموں کا گزر ذرا مشکل سے ہو گا اور اگر وہ ادھر سے گزرے بھی تو انھیں عوامی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا۔ سو آئیے ہم کتابوں کا جشن منائیں