رانا اعجاز حسین

گیلپ سروے کے مطابق پاکستان میں42 فیصد کتب بین مذہبی، 32 فیصد عام معلومات یا جنرل نالج، 26 فیصد فکشن اور7فیصد شاعری کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ گیلپ پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے ایک اور سروے کے مطابق ملک میں 39 فیصد پڑھے لکھے افراد کتابیں پڑھنے کے دعویدار ہیں، جبکہ 61فیصد کا کہنا ہے کہ وہ کتابیں نہیں پڑھتے ہیں۔ معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں کمی کی ایک وجہ انٹرنیٹ بھی ہے۔ایک نجی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کتب بینی کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ لوگ اب دکانوں اور کتب خانوں میں جا کر کتابیں، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگوں کو گھر میں بیٹھے بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے تمام نئی اور پرانی کتابیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح لوگوں کا وقت اور رقم دونوں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ کتابوں کے شوقین ہمیشہ اچھی کتب کی تلاش میں رہتے ہیں، انہیں ہمیشہ ہر جگہ اچھی اور دلچسپ کتب پڑھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتابوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے کتابیں خریدنے کے رجحان میں کمی آتی جا رہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں اب کتب فروشوں نے دکانوں پر کتب بینوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی ہے۔ انٹرنیٹ سٹوڈنٹس کمیونٹی اور تعلیم یافتہ طبقے کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ طالب علم کمپیوٹر پر یونیورسٹی و کالج کی اسائن منٹس بناتے ہیں اور پھر ای میلز یا پھر دیگر انٹرنیٹ ذرائع سے ایک دوسرے کوایک ہی جگہ بیٹھے پہنچاتے ہیں۔ یوں تعلیم سے متعلق تبادلہ خیال میں بھی آسانی ہوتی ہے اور طلبہ کا اساتذہ سے رابطہ بھی رہتا ہے، مگر انٹرنیٹ کے باعث آج کل کا طالب علم صرف کورس کی کتابوں کے علم تک محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم انٹرنیٹ چیٹنگ اور سماجی روابط کی ویب سائٹس میں اپنا وقت صرف کر دیتے ہیں۔ دور جدید میں اگرچہ مطالعہ کے نئے میڈیم متعارف ہو چکے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برکت سے علم کا حصول اور اطلاعات رسانی کے باب میں انقلاب برپا ہو چکا ہے، مگر کتاب کی اپنی دائمی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم و دائم ہی نہیں، بلکہ اس میں حد درجہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے شائقین کی تعداد ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں کتابیں زیور اشاعت سے مزین ہو رہی ہیں اور بے شمار لائبریریاں معرض وجود میں آ رہی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ کتاب اور انسان کا رشتہ اتناہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسانی تہذیب و تمدن کا سفر اور علم و آگہی کی تاریخ۔ تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھل گئے، تو انسان کتاب کے وسیلے سے خودبخود ترقی کی شاہراہ پر قدم رنجہ ہوا۔ سچ مچ کتاب کی شکل میں اس کے ہاتھ وہ شاہی کلید آ گئی، جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیئے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے، سمندروں کی تہیں کھنگالنے اور پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا شوق اس کے رگ و پے میں سرایت کر دیا۔ جوں جوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا کتاب اس کے لئے ایک مجبوری بنتی گئی، کیونکہ یہ اسی کتاب کی کرامت تھی کہ انسان کے لئے مطالعے اور مشاہدے کے بل پر نئی منزلیں طے کرنا آسان ہوا۔ علم و فن نے اس کی ذہنی نشوونما، مادی آسائشیں اور انقلاب فکر و نظر کا سامان پیدا کیا۔ غرض کتاب شخصیت سازی کا ایک کارگر ذریعہ ہی نہیں، بلکہ زندہ قوموں کے عروج و کمال میں اس کی ہم سفر بن گئی۔ کتاب کی اس ابدی اہمیت کے زیر نظر زندہ قوموں کا شعار، بلکہ فطرت ثانیہ ہوتی ہے کہ وہ کتب خانوں کو بڑی قدرومنزلت دیتے ہیں۔ آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلابی دور میں امریکہ میں لائبریری آف کانگریس اور برطانیہ میں برٹش میوزیم لائبریری دو قوموں کے واسطے فکری اساس یا شہ رگ بنی ہوئی ہیں۔ یہی علم پرور ادارے ان کو خیالات کی نئی وسعتوں میں محو پرواز رکھتے ہیں، قوم و ملت کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں منزل مقصود تک پہنچانے کے ضمن میں ان لائبریریوں کی کروڑوں کتابیں خاموشی سے رہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ ان قوموں کے باشعور عوام میں لائبریری تحریک کا ایک منظم سلسلہ بھی موجود ہے۔ پاکستان میں کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ پاکستان میں درست طور پر خواندہ شہریوں کی تعداد بہت ہی کم ہے، ان میں سے کتابیں خریدنے کی سکت رکھنے والے زیادہ تر افراد انگریزی کتابیں پڑھتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کتابیں قارئین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ ان کے بقول جب تک کتابیں غریبوں کی پہنچ میں نہیں آتیں، اس رجحان کا فروغ پانا مشکل ہے۔

Cortesy: http://dunya.com.pk