تحریر:رانا اعجازحسین

ہرسال پاکستان سمیت دنیا بھر میں 23اپریل کا دن ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے کے طور پرمنایا جاتا ہے ۔ آج ہمارے معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ ہے، کتب بینی کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ لوگ اب دکانوں اور کتب خانوں میں جا کر کتابیں، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگوں کو گھر میں بیٹھے بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے تمام نئی اور پرانی کتابیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح لوگوں کا وقت اور رقم دونوں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ کتابوں کے شوقین ہمیشہ اچھی کتب کی تلاش میں رہتے ہیں، انہیں ہمیشہ ہر جگہ اچھی اور دلچسپ کتب پڑھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتابوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے کتابیں خریدنے کے رجحان میں کمی آتی جا رہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں اب کتب فروشوں نے دکانوں پر کتب بینوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سٹوڈنٹس کمیونٹی اور تعلیم یافتہ طبقے کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ طالب علم کمپیوٹر پر یونیورسٹی و کالج کی اسائن منٹس بناتے ہیں اور پھر ای میلز یا پھر دیگر انٹرنیٹ ذرائع سے ایک دوسرے کوایک ہی جگہ بیٹھے پہنچاتے ہیں۔ یوں تعلیم سے متعلق تبادلہ خیال میں بھی آسانی ہوتی ہے اور طلبہ کا اساتذہ سے رابطہ بھی رہتا ہے، مگر انٹرنیٹ کے باعث آج کل کا طالب علم صرف کورس کی کتابوں کے علم تک محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم انٹرنیٹ چیٹنگ اور سماجی روابط کی ویب سائٹس میں اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔
عالمی یوم کتاب کی مناسبت سے دنیا بھر میں کتابوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے۔ کتابوں کی نمائشیں، سیمینار، سمپوزیم اور اسی طرح کے دوسرے فنکشن منعقد کر کے کتب بینی کے ذوق و شوق کو پروان چڑھانے کی زور دار کوششیں کی جاتی ہیں۔ دور جدید میں اگرچہ مطالعہ کے نئے میڈیم متعارف ہو چکے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برکت سے علم کا حصول اور اطلاعات رسانی کے باب میں انقلاب برپا ہو چکا ہے، مگر کتاب کی اپنی دائمی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم و دائم ہی نہیں، بلکہ اس میں حد درجہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے شائقین کی تعداد ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں کتابیں زیور اشاعت سے مزین ہو رہی ہیں اور بے شمار لائبریریاں معرض وجود میں آ رہی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ کتاب اور انسان کا رشتہ اتناہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسانی تہذیب و تمدن کا سفر اور علم و آگہی کی تاریخ۔ تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھل گئے، تو انسان کتاب کے وسیلے سے خودبخود ترقی کی شاہراہ پر قدم رنجہ ہوا۔ سچ مچ کتاب کی شکل میں اس کے ہاتھ وہ شاہی کلید آ گئی، جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیئے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے، سمندروں کی تہیں کھنگالنے اور پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا شوق اس کے رگ و پے میں سرایت کر دیا۔ جوں جوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا کتاب اس کے لئے ایک مجبوری بنتی گئی، کیونکہ یہ اسی کتاب کی کرامت تھی کہ انسان کے لئے مطالعے اور مشاہدے کے بل پر نئی منزلیں طے کرنا آسان ہوا۔ علم و فن نے اس کی ذہنی نشوونما، مادی آسائشیں اور انقلاب فکر و نظر کا سامان پیدا کیا۔ غرض کتاب شخصیت سازی کا ایک کارگر ذریعہ ہی نہیں، بلکہ زندہ قوموں کے عروج و کمال میں اس کی ہم سفر بن گئی۔ کتاب کی اس ابدی اہمیت کے زیر نظر زندہ قوموں کا شعار، بلکہ فطرت ثانیہ ہوتی ہے کہ وہ کتب خانوں کو بڑی قدرومنزلت دیتے ہیں۔ آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلابی دور میں امریکہ میں لائبریری آف کانگریس اور برطانیہ میں برٹش میوزیم لائبریری دو قوموں کے واسطے فکری اساس یا شہ رگ بنی ہوئی ہیں۔ یہی علم پرور ادارے ان کو خیالات کی نئی وسعتوں میں محو پرواز رکھتے ہیں، قوم و ملت کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں منزل مقصود تک پہنچانے کے ضمن میں ان لائبریریوں کی کروڑوں کتابیں خاموشی سے راہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ ان قوموں کے باشعور عوام میں لائبریری تحریک کا ایک منظم سلسلہ بھی موجود ہے۔ پاکستان میں کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ پاکستان میں درست طور پر خواندہ شہریوں کی تعداد بہت ہی کم ہے، ان میں سے کتابیں خریدنے کی سکت رکھنے والے زیادہ تر افراد انگریزی کتابیں پڑھتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کتابیں قارئین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ ان کے بقول جب تک کتابیں غریبوں کی پہنچ میں نہیں آتیں، اس رجحان کا فروغ پانا مشکل ہے۔ کتابیں انسانی زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ادب انسانی مزاج میں نرمی پیدا کرتا ہے، اس لئے کتابوں کو فروغ دے کر بھی دہشت گردی کے جذبات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستانی اشرافیہ کتابوں سے لاتعلق ہے اور معاشرہ بھی کتابیں نہ پڑھنے والوں کو جاہل نہیں سمجھتا۔ اچھی کتابیں آج بھی پڑھی جا رہی ہیں۔ کتابوں کے حوالے سے موجود کئی مسائل کے باوجود پاکستان میں کتب میلے، دنیا کی بہترین کتابوں کے تراجم کی اشاعت، ای بکس، آن لائن بکس سٹور، ریڈرز کلب، موبائل بک سٹورز اور میگا بکس سٹورز کتابوں کی دنیا کے نئے رجحانات ہیں۔ یاد رہے پاکستان میں کئی ادارے کتب بینی کے فروغ کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس لئے مبصرین کے بقول پاکستان میں کتابوں کے اچھے مستقبل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر کے سو سے زیادہ ممالک میں کتابوں اور کاپی رائٹس کے عالمی دن منانے کا مقصد کتب بینی کے شوق کو فروغ دینا اور اچھی کتابیں تحریر کرنے والے مصنفین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
عالمی یوم کتاب کے موقع پر بک سیلرز اور پبلشرز کتابوں پر زیادہ ڈسکاؤنٹ دے کر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بہت ساری کتابیں مفت بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔عالمی یوم کتاب پیغام دیتا ہے کہ محض خانہ پْری نہ کی جائے،بلکہ عوام الناس میں کتب بینی کا شوق اور صحت مند کتابوں کے مطالعہ کی طرف عوام الناس کو راغب کیا جائے۔ حکومتی سطح پر کاغذ سستا کرنا چاہئے تاکہ چھپائی کے اخراجات کم ہو سکیں۔ لائبریریوں کو عوام الناس میں کتب بینی کے شعور کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دینے چاہئیں۔ بلاشبہ کتاب ایک قوم کی تہذیب و ثقافت اور معاشی، سائنسی اور عملی ترقی کی آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔ کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب اس وقت بھی ساتھ رہتی ہے،جب تمام دوست اور پیار کرنے والے ساتھ چھوڑ دیں۔ اگرچہ آج ٹی وی انٹرنیٹ اور موبائل نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان خاصا کم ہے۔ بچوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنا کٹھن کام بن گیا ہے، حالانکہ موجودہ دور میں بڑھتے نفسیاتی مسائل سے بچنے کے لئے آج ماہرین نفسیات بچوں کے لئے مطالعے کو لازمی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اچھی کتابیں شعور کو جِلا بخشنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بہت سے فضول مشغلوں سے بھی بچاتی ہیں۔ بچوں میں مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں والدین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جونہی بچہ سیکھنے اور پڑھنے کی عمر کو پہنچے ، والدین کو چاہئے کہ اسے اچھی اور مفید کتابیں لا کر دیں۔ شروع میں یہ کتابیں کہانیوں کی بھی ہو سکتی ہیں، کیونکہ بچے کہانی سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس طرح بچے کو مطالعے کی عادت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ والدین بچوں کے سامنے اپنی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ فارغ وقت میں ٹی وی دیکھنے یا فون سننے کے بجائے وہ کسی کتاب یا رسالے کی ورق گردانی کر کے بچے کو بھی اس طرف مائل کریں۔ جب بچہ والدین کو مطالعہ کرتے دیکھے گا تو لاشعوری طور پر اسے یہ ادراک ملے گا کہ فارغ اوقات میں مطالعہ ہی کرنا چاہئے۔ ہو سکے تو بچے کو لائبریری بھی لے جائیں۔ کہتے ہیں کہ لائبریری بچے کے دماغ کی بہترین میزبان ہوتی ہے۔ ڈھیر ساری کتابیں دیکھ کر بچہ خوش بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے مزاج اور پسند کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر کے اپنی دماغی صلاحیتیں اجاگر کر سکتا ہے۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور کتابیں قومی ترقی کی ضامن ۔۔۔ چنانچہ اپنے بچوں کی کتابوں سے دوستی کروا کر آپ نہ صرف انہیں زندگی میں ایک بہترین دوست عطا کریں گے، بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں ممدومعاون بن جائیں گے۔ اچھی کتابیں انسان کو مہذب بناتی اور اس کی شخصیت کو وقار عطا کرتی ہیں۔ آج بھی بیشتر خواتین و حضرات کے نزدیک کتابوں پر رقم خرچنے سے کہیں بہتر کپڑوں، جیولری اور زندگی کی دیگر آسائشوں پر پیسہ خرچ کرنا اہم ہے، لیکن یہ تمام چیزیں عارضی اور ضرورت کے تحت استعمال کی جانے والی اشیاء ہیں۔ کتاب سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ایسی شے نہیں جو ہمیشہ آپ کی دوست رہے۔ کتاب سے دوستی انسان کو شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے۔ سو اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو خود بھی کتاب سے دوستی پکی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس بہترین دوست سے روشناس کروایئے۔کتب کے مطالعہ سے ہی انسان اپنے اخلاق اور معیار زندگی کو بلند کرسکتا ہے ، وہاں کتب بینی ہی زندگی کے بہت سے اسرار و رموز کے ساتھ ساتھ اسے منزل سے بھی روشناس کرواتی ہے۔