reading

اسلام آباد( آن لائن)”وش”یونیورسٹی کے صدر پروفیسر طیب گلزار نے کہا ہے کہ کتاب بینی کے رجحان میں کمی نے طلباء میں تحقیق کے کلچر کو کم کیا ہے۔پاکستانی طلباء کی یورپی تحقیق تک رسائی کے لیے جامع منصوبہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔کتاب کے عالمی دن کے حوالے سے ”وش” یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ملک میں کتاب بینی کے فروغ اور بین الاقوامی تحقیقات کی کتب تک پاکستانی طلباء کی رسائی کے حوالے سے مشاورت کی گئی”وش” یونیورسٹی کے صدر پروفیسر طیب گلزار نے اس موقع پر کہا کہ کتاب بینی کا کلچر کم ہونے کی وجہ سے طلباء میں تحقیق کا رحجان کم ہوا ہے جب تک کتاب کو عام نہیں کیا جائے گا طلباء میں تحقیق کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔اجلاس میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور برطانوی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل اساتذہ نے شرکت کی۔ مشاورت میں شریک ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور یورپ میں ہونے والی تحقیق سے آگاہی پاکستانی طلباء کے لیے ضروری ہے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ برطانوی یونیورسٹیوں کی درسی کتب پاکستان کی یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں موجود ہوں۔ان کتابوں کو پاکستان لانے اور مختلف یونیورسٹیوں سے رابطے کرنے ان کی ضرورت اور شعبوں سے متعلق کتب کی فراہمی کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی کمیٹی اس حوالے سے لائحہ عمل تیار کر کے آئندہ اجلاس میں سامنے لائے گی۔ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ غیر ملکی تحقیق پر مشتمل کتابیں برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں سے باآسانی سستے داموں مل جاتی ہیں اور ان کو پاکستان بھی لایا جا سکتا ہے اس طرح سے پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے ادارے طلباء کو مغربی تحقیق اور لٹریچر سے آگاہی دے سکیں اور پاکستان میں تحقیق آگے بڑھ سکے گی