پاکستان سمیت دنیا بھر میں 23 اپریل کو کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔اس دن کی شروعات 1616 میں سپین سے ہوئی جہاں ہر سال 23 اپریل کو مرد اپنی عزیز خواتین اور لڑکیوں کو گلاب کے پھول پیش کرتے ۔اس دوران جگہ جگہ مشہور ناولوں کے حصے ، شیکسپئرکے ڈرامے اور دوسرے مصنفوں کی کتابوں کے حصے پڑھے جاتے ۔ آہستہ آہستہ یہ روایت ورلڈ بک ڈے کی شکل اختیار کر گئی۔ 1995میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونسکو کی جنرل کونسل نے 23 اپریل کو ‘ورلڈ بک ‘ قرار دے دیا۔

دین اسلام کا آغاز وحی کا سلسلہ ہی ” اقراء” سے ہوا ۔یعنی علم کی اہمیت، لیکن افسوس کہ مسلمان ہی پوری دنیا میں علم میں دیگر قوموں سے پیچھے ہیں ۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کتاب کو فضول سمجھا جاتا ہے ۔ہمارے گھروں میں لائبریری تو دور کی بات چند کتابوں کا ذخیرہ بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہمارے ہاں کتابیں خریدنے اور پڑھنے والے کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اسے خبطی ،کتابی کیڑا ،پاگل کہا جاتا ہے۔

یہ سب اس قوم میں ہو رہا ہے جس کے معلم ﷺ نے ایک عالم کو ایک زاہد پر وہی فضیلت ہے جو مجھے ایک عام مسلمان پر ہے ۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ عالم باعمل کا تمام رات سونا زاہد کی شب بیداری سے افضل ہے ۔ قرآن پاک نے تو دو ٹوک الفاظ میں فرما دیا کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر نہیں ہوسکتے بلکہ جاننے والوں کو دیکھنے والے جبکہ نہ جاننے والوں کو اندھوں سے تشبیہ دی ہے ۔

اجتماعی طور پر مسلمان اور خاص طور پر ہم پاکستانی کتاب سے کیوں دور ہوتے جا رہے ہیں ،اس کے مختصر اسباب ،غربت ،بے روزگار جس کی وجہ سے عام پاکستانی اسی چکر میں ساری زندگی گزار دیتا ہے ۔ہمارے ہاں ایک عالم کی عزت میں بھی بے پناہ کمی آئی ہے ،دوسری طرف صاحب علم بے روزگار ہیں ، اور علم کی سرپرستی حکومت نہیں کرتی ،پھر انفرادی پر ہم اتنے بدذوق ہوچکے ہیں کہ عموماً کتابوں کا مطالعہ کرنے کو وقت کاضائع سمجھتے ہیں ۔

پاکستان میں ایک تو شرح خواندگی کم ہے اور دوسری طرف مہنگائی کی وجہ سے بھی کتاب بینی میں کمی آئی ہے ۔ پھر جدید طریقوں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فونز کے استعمال کی وجہ سے بھی کتاب کی اہمیت متاثر ہوئی ہے ۔

اگر موضوع اچھا ہو تو کتاب آج بھی خریدی اور پڑھی جاتی ہے پاکستان میں زیادہ کتابیں شاعری کی شائع ہوتی ہیں ،اور ان کی شاعری بھی اس قابل نہیں ہوتی اس لیے بھی رحجان کم ہے۔ پاکستان میں سنجیدہ موضوعات پر لکھی گئی کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد بھی دیگر ممالک سے کم ہے اور پھر ۔ فلسفے ، تاریخ، نفسیات اور سائنس پر لکھی گئی کتابیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کا حل دیگر زبانوں کی کتابوں کے تراجم کی صورت میں نکالا جانا چاہیے۔پاکستان میں کتاب سے دوری کے اسباب میں لائبریری کی کمی بنیادی وجہ میں سے ایک ہے ۔

میں نے اتنا ہی کالم لکھا تھا کہ برمنگھم برطانیہ میں مقیم 10 کتابوں کے مصنف جناب جاوید اختر چودھری ،جن کی شریک حیات معروف ادیبہ سلطانہ مہر 20 کتابوں کی مصنفہ ہے ،کا فون آ گیا ،ان کے پوچھنے پر میں نے ورلڈ بک ڈے اور پاکستان میں قاری کی کتابوں سے دوری کے اسباب گنوائے تو انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں انٹرنیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث کتابوں کے خریداروں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔پاکستان میں کتابوں کا فروغ کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہا ، میں عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم ہوں میں نے دیکھا ہے کہ یورپ میں کتاب کو بہت اہمیت حاصل ہے ،مسافر دوران سفر،انتظار گاہ میں فارغ اوقات میں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔پاکستان میں اول تو کتابیں لکھنا مشکل ہیں پھر اگر لکھ بھی جائیں تو ان کو پبلش کرنا مشکل ترین ہے میں نے دیکھا ہے اگر آپ کتاب لکھ لیں تو اسے فری میں ،یا گفٹ مانگا جاتا ہے ،یہ نہیں کہ تھوڑے پیسے خرچ کر کے جاننے والی کی حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے ۔اسی فی صد لکھاری اپنی جیب سے کتاب چھپوا کر دوستوں میں بانٹ رہے ہیں پاکستان میں صرف کتابیں لکھ کر گزر اوقات ممکن نہیں ہے۔کسی بھی معاشرے ،قوم ،ملک کی ترقی کا دارومدار علم پر ہوتا ہے اور علم کا کتاب پر ،تاریخ اس کی گواہ ہے ،یونان اور اس کے بعد مسلمانوں کا عروج جب دنیا جہاں سے کتابیں مسلمان خرید رہے تھے اور ان کو ترجمہ کر رہے تھے ،اس کے بعد آج آپ دیکھ لیں مغرب میں کتاب دوستی ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ آج مغرب ترقی یافتہ کہلاتا ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں پاکستان میں گزشتہ 30 برسوں سے کتاب بینی کم ہوتی جارہی ہے ۔لیکن علامہ اقبال نے تو بہت پہلے کہا تھا 

تجھے آبا ء سے اپنے کوئی نسبت ہونہی سکتی

کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی  

         ثریاسے زمیں پرآسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا وہ اک عارضی شے تھی

           نہیں دْنیا کے آئین مسلّم سے کوئی چارا

مگروہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباکی

                  جو دیکھیں ان کو یورپ میں ،تو دل ہوتاہے سیپارا

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں42فی صد کتابیں مذہبی، 32 فی صد عام معلومات یا جنرل نالج ، 36 فی صد فکشن اور 07 فی صد شاعری کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ اردو پوائنٹ ڈاٹ کام کی ایک خبر کے مطابق: “کتابوں سے دوری کی وجہ سے نوجوان نسل اپنے اسلامی ، سیاسی ، مذہبی کلچر اور ادب سے بھی غیر مانوس ہونے لگی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق قدر ت اﷲ شہاب ، احمد ندیم قاسمی ، خواجہ حسن نظامی ، ابوالکلام آزاد ، چراغ حسن حسرت، میر تقی میر، فیض احمد فیض ، ناصر کاظمی ،واصف علی واصف کی کتابوں کے دوکانوں پر ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔ مگر ان کو پڑھنے والا کو ئی نہیں ہے ایک رپورٹ کے مطابق نوجوان نسل کی صرف 19 فی صد تعداد ہی کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتی ہے ۔ 60 فی صد سے زائد نسل انٹر نیٹ ، فیس بک اور ٹوئٹر کی جانب مائل ہے ۔

Courtesy: http://m.hamariweb.com/