bibliographyجوں جوں یونیورسٹیوں میں تاریخ ِ کتاب کے مراکز قائم ہو رہے ہیں اور وہاں جاری تدریسی پروگراموں سے کتاب کی تاریخ کی ببلیوگرافی میںتیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اشاعتی ادارے اس موضوع پر نت نئی کتب شائع کر رہے ہیں اور اسکالرز کتاب شناسی اور اس سے ملحقہ مضامین میں بڑھ چڑھ کر دلچسپی لے رہے ہیں۔

تحقیق کے اس میدان میں حال ہی میں رمز بندی کی گئی ہے جو نہ صرف متعدد اداروں میں ہوئی بلکہ اصطلاحی سطح پر بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ رمز بندی کی اصطلاح ’’کوڈ‘‘ سے نکلی ہے جو خود ’’کوڈیکس‘‘ (یعنی کتاب کی شکل میں قدیم مخطوطہ) سے مشتق ہے۔ کتاب شناسی کے اسکالر کوڈیکس میں سموئی ہوئی رمزوں کو افشا کر نا چاہتے ہیں یعنی عمومی طور پر فکر کے سسٹم کی تخلیق اور اظہار کے وہ مادی ڈھانچے جن کے ذریعے خیال کا اظہار کیا جاتا ہے۔

ان کا اصل موضوع کوئی بدن سے عاری نظم نہیں ہے جو اپنے مادی سہاروں سے آزاد ہو کر فضا میں تیر رہی ہو ، نہ ہی استفسار اور طباعت کی تعداد کے کیل اور پیچ ہیں بلکہ متون کے مختلف پہلو ہیں ۔ اسکالروں کےلئے کتاب شناسی کا مضمون ایک ایسا میدان ِعلم ہے جو منہاجیات اور نظریوں کو دلچسپ طور پر یکجاکرتا ہے۔

وہ اولین مفروضہ جو کتاب کے تاریخ دان اپنے پیش ِ نظر رکھتے ہیں(materiality) مادیت یعنی تحریروں کی کتابی شکل میں اہمیت سے متعلق ہے۔ ادب کی کوئی لطیف تاریخ یا افکار کی کوئی غیرمرئی تاریخ کی بجائے ان تاریخ دانوں کا مطمع ِ نظر اشیا کی آثاریاتی تاریخ ہے۔ گو تجزیاتی کتابیات کے عالموں نے عرصہ دراز سے ان شواہد پر نگاہ رکھی ہے جن پر جدید کتاب شناسی کی بنیاد اٹھائی گئی ہے، لیکن اب ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو ان شواہد کے مختلف استعمال کے متقاضی ہیں۔

کتابیات میں ضمنی دلچسپی کے عوامل جنہیں ادبی تجزیہ میں پہلے نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ متن کی صفحہ سازی، مطبوعہ عبارت کا طرز (typography) ، حاشیہ نویسی، کاغذ کی تیاری اور اقسام اور آبی مارکہ جات(watermarks) اب متون کے مطلب سے غیر متعلق نہیں رہے۔ اسی طرح اشاعتی اداروں کے دستاویزی محافظہ خانے(Archives) کتب فروشوں کے کاروباری معاہدے یا کتابی حاشیوں کے تجزیئے اور قارئین کے مشاہدات ، تاریخ دانوں کے ساتھ ساتھ اب ادبی نقادوں کی دلچسپی کے سامان میں شامل ہو گئے ہیں ۔ اور جیسا کہ متعد اسکالروں کا کہنا ہے کہ کتاب کے وجود میں آنے کے عوامل دانش کی تخلیق اور انکشاف ہیں کیونکہ وہ کوئی وقتی خصوصیات ہونے کی بجائے ادبی متن کی شناخت کے ٹھوس ترین اور ابدی عوامل ہوتے ہیں۔ تاریخ ِکتاب کتابیاتی معلومات کی باریک بین ، نہایت محتاط تنقیح ، مجرد قیاس آرائی اور متن کی فطری خصوصیات کی تحقیق کی بابت ایسا مجموعہ ہے جو مطالعہ کیلئے ایک قوی چوکھٹا فراہم کرتاہے۔ Books

علم کے اس نئے میدان میں قرون وسطیٰ کے مطالعات کا کیا مقام ہے؟ ایک لحاظ سے قرون ِ وسطیٰ کے ماہرین ہمیشہ کتاب کے مورّخ ہی رہے ہیں ۔ کیونکہ شروع ہی سے اس میدان کا مرکزی محور تاریخی متن کی مادیت یعنی وجود میں آنا رہا ہے۔ اس کا اولین اور مشکل ہدف مخطوطات کے متون کی وضاحت اور طباعت تھا کیونکہ اس دور کے فکر و عمل کے شواہد انہی مخطوطات میں تو پوشیدہ ہیں ۔ قرون ِ وسطیٰ کے متون کی تدوین سے کتاب کی تاریخ کے علم کی تشکیل اور جنم ہوا جیسا کہ 1864ء میں Early English Text Society کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے۔ اب بھی جیوفری چاسر کے قارئین کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہCanterbury Tales کے متعدد مسودات اِن کہانیوں کی اصل ترتیب کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرتے ۔ علم ِ اللسان(Philology)، متنی تنقید(Textual Criticism)، قدیم کتبوں و دستاویز کا مطالعہ(Palaeography)، علم ِ رموزبندی(Codicology) اور کتاب کی آثاریات(Archaeology)، وہ چند علوم ہیں جو قرون ِ وسطی کے مخطوطات کے مطالعہ میں مستعمل ہیں ۔ ان کے تنوع سے ایسی تحقیق کی طویل تاریخ اور ترجیحات میں تغیر کا پتہ ملتا ہے۔

کتاب کے آثاریات کا علم اور کتاب شناسی کی تاریخ تقریباً برابر ہے۔ تاہم قرون ِ وسطیٰ کے مطالعہ اور اس کے بعد کے ادوار کے مطالعات میں کافی زمانی فرق ہے۔ اپنے ذی اثر اور با ر بار شائع ہونے والے مقالہ بعنوان : “What is the History of Books?” میں رابرٹ ڈارنٹن نے اس سوال کا جواب کتاب کی تاریخ کی اس تعریف میں دیا کہ وہ ’’ طباعت کے ذریعہ ابلاغ کی سماجی اورثقافتی تاریخ ‘‘ ہے۔

اس کے مقابلہ میں دوسرے مطالعات بھی سامنے آتے ہیں جوتاریخ ِ کتاب کے فرانسیسی اور امریکی دبستانوں کے آپس میں رشتے کا گہرا موازنہ کرتے ہیں اور تاریخ دانوں، ماہرین کتابیات، مدیروں اور ادبی نقادوں کے بدلتے ہوئے کردار کا مطالعہ کرتے ہیں۔ لیکن ان سب نے پرنٹنگ کے دور سے قبل کی کوڈیکس کی کہانی کو اکثر نظرانداز کیا ہے ۔ اس میدان میں سامنے آنے والی چند ٹیکسٹ بکس An Introduction to Book History میں اس علم کی وسیع ترین تعریف برتتے ہوئے اس میں ’’طباعت کا ہر قسم کا عمل ‘‘ شامل کر لیا ہے ۔ امریکی ماڈرن لینگویج ایسوسی ایشن کے مجلہ PMLA نے اپنی ایک خصوصی اشاعت بعنوان “The History of the Book and the Idea of Literature” میں کتاب شناسی کو صرف طباعتی مواد تک محدود رکھا ہے ۔ گو اس مجلہ کا ایک مدیر ماہر مطالعات قرون ِ وسطیٰ بھی ہے۔

اگر اس دور کا کوئی شخص یا کالج میں پہلے سال کا نووارد طالب علم کسی ٹیکسٹ بکس کی دوکان میںداخل ہو تو شاید یہ سمجھے کہ یوہانس گیوٹن برگ کے چھاپہ خانہ کی ایجاد سے قبل انسان کچھ بھی نہیں پڑھتا تھا۔ فی الحقیقت لسانیاتی اورمذہبی تفرقات سے بڑھ کر گیوٹن برگ کی ایجاد ہمارے لیے قرون وسطیٰ اور جدید دور کے درمیان نظر آنے والے بُعد کی تشریح کرتی ہے۔

دراصل تحریر اور طباعت میں حقیقی تفریق اس علمی صف بندی کی اصل وجہ ہے ۔ تاریخ ِکتاب کی ابتدائی تحریک اٹھارویں صدی میں طباع شدہ متون کے قارئین کی ایک بڑی تعداد اکٹھا کرنے کی قوت سے پیدا ہوئی۔ اوائلی جدید دور میں ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے کتاب شناسی کے مضمون کیلئے ایک زرخیز فوکس کا کردار ادا کیا کیونکہ چھاپہ خانے کی ایجاد نے تحریروںکے ٹھوس وجود کو اجاگر کیا ۔ ہاتھوں سے لکھے کوڈیکس کے نقوش ان مطالعات میں نظر نہیں آتے جو پرنٹنگ کی وجہ بنے۔ تحقیق کے باوجود تاریخ ِکتاب میں قلمی کتاب کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

فی الحقیقت قلمی کتاب، تاریخ کتاب شناسی کا ناگزیر حصہ ہے۔ ایسے مبصرین بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ گیوٹن برگ نے طباعتی انقلاب ہی برپا نہیں کیا تھا بلکہ اس نے معلوم کوڈیکس کی تخلیق کیلئے دوسری ٹیکنالوجی متعارف کروائی ۔ آج بھی ہم مخطوطے سے کچھ کام لیتے ہیں اور ہمیں ایک تیسری ٹیکنالوجی کو بھی خاطر میں لانا ہو گا یعنی اکیسویں صدی کا ہر جاء موجود ڈیجیٹل ماحول ۔ ہمارے متنی آفاق کے تغیرات ہمیں علم کے مختلف پہلوؤں کی اثراندازی پر غور کرنے کا جواز فراہم کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں ہمیں کتاب کی تاریخ کی تعریف ِ نو کرنا ہوگی کہ یہ مضمون مطبوعہ کوڈیکس کی تاریخ سے بڑھ کر ہے۔ الیکٹرانک مواد اور طبع شدہ مواد میں تھوڑی بہت مماثلت ہے ۔ مثلاً الیکٹرونک متون طبع شدہ متون کی وسیع تر اشاعت کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں لیکن اس کے استحکام اور ٹھہراؤ میںکمی کر ڈالتے ہیں ۔ تاہم ایسی تعریف سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اطلاق پر پڑنے والے اثرکا پتہ ملتا ہے۔

ٹھوس متن کی ایسی کشادہ تاریخ وضع کرنا قرون وسطیٰ کے مطالعات کیلئے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اگر مخطوطات سے قرون ِ وسطیٰ کی ادبی تنقید معین ہوتی ہے تو وہ اس تنقید کے مستقبل کی نشاندہی کرنے کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں ۔ گزشتہ چند دہایؤں میں ہر جانب یہ طے کر لیا گیا ہے کہ قرون ِ وسطیٰ کے مدّون ایڈیشن جدید قاری کی مکمل تاریخی سمجھ کی پیچیدگی کو محدود کر ڈالتے ہیں۔ اس کے برعکس مخطوطہ شناسی کا حال میں ترک ہونے والا دلکش مطالعہ قرون ِ وسطیٰ میں ادب کی اولین افزائش کے مانوس حالات کو اس ادب کی سمجھ کا اہم رکن گردانتا ہے۔ قرون ِ وسطیٰ کے مخطوطات کے مطالعات کی احیائِ نو کی ایک وجہ کتاب کی وہ تاریخیں ہیں جو دنیا کے دوسرے خِطوں میں لکھی جا رہی ہیں۔

پرنٹنگ کی ایجاد کے بعد کے دور میں مطبوعہ مصنوعات کو نئے زاویوں سے دیکھنے سے ہمارے جیسے قلمی متون کے محققوں کیلئے نئی راہیں کھلی ہیں اور نئے مفید سوالات نے جنم لیا ہے۔ مثلاً وسط انگریزی زبان کے متون کے اولین ایڈیشن بنیادی طور پر زبان مرکوز تھے۔ جیسا کہ ان کی طویل لساناتی تمہیدوں سے پتہ چلتا ہے کہ Early English Text Society کے قیام کا ایک جزوی مقصد آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کیلئے لسانیاتی کوائف فراہم کرنا تھا۔ اب ہم قرون ِ وسطیٰ کے کسی متن کی تمام مادی تاریخ پر توجہ دیتے ہیں جس کو New Philology بھی کہا جاتا ہے جو قرون ِ وسطیٰ کے مطالعات کی ایک ایسی شاخ ہے جس کی اہمیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

قلمی کتاب کی تاریخ مطبوعہ کتابوں کے مورخوں کو بھی کچھ سکھا سکتی ہے کیونکہ مخطوطات کا ذکر نہ کرنے سے خواندہ متنیت Literate Textuality کی اہم گفتگو میں خلل پڑتا ہے۔ قرون ِ وسطیٰ کے دوران قائم کردہ پڑھنے لکھنے کی ٹیکنالوجی سولہویں صدی میں معدوم نہیں ہو گئی تھی ۔ چھاپہ خانوں کے قیام نے پرنٹنگ کو فوری طور پر عام نہیں کر دیا تھا جیسا کہ اوائلی جدید دور میں ادبی یا دیگر تحریریں اور ان کی نشر و اشاعت قلمی شکل ہی میں ہوتی تھی۔ لائبریری کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قرون ِ وسطیٰ کی کتب نے اوائلی جدید عہد کے قارئین اور مصنفین کو آگے بڑھنے میں مدد دی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی بودلائن لائبریری کی الماریوں میں سترھویں صدی کے وسط تک مخطوطات اور مطبوعہ کتابیں ایک ساتھ رکھی جاتی تھیں۔ ٹائپ رائٹرکی ایجاد کے انقلاب کے بعد بھی مخطوطات اور مطبوعہ مواد ، کبھی ایک ہی فن پارے میں اکٹھے، گردش میں رہے۔ کم از کم قرون ِ وسطیٰ کے ماہرین میں یہ گرما گرم بحث جاری رہی ہے کہ قرون ِ وسطیٰ اور نشاۃ ثانیہ کے درمیان ادواری حد کیا تھی۔ ان میں سے چند اسکالر ایسے بھی ہیں جو خط سے ٹائپ کی جانب ترقی کو ان دو ادوار کے ما بین حد ہونے یا نہ ہونے کے بارے غورکر رہے ہیں۔

ادبی تاریخ کے بدلتے ہوئے ماڈلوں کے بارے میں تفتیش کیلئے علوم مخطوطات یوں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں کہ وہ اس ادواری حد کے دونوں جانب قلمی ثقافت کے تواتر کے نقوش مرتب کر سکتے ہیں کہ قلمی کتابیں اور خطی متون کی اشاعت کس طرح ہوتی، قلمی نسخوں کو قارئین کیسے دیکھتے تھے اور تصنیف کے عمل میں اشتراک کا کیا کردار ہوتا تھا۔ قرون ِ وسطیٰ کی قلمی ثقافت کے مطالعہ کے بعد کے ادوار کی اسکالرشپ بشمول مطبوعہ کتاب کے مطالعات مرتب ہونے والے ممکنہ تغیرات کے بارے میں نظریہ سازی میں مزید کام کیا جا سکتا ہے۔ الیسٹر منیس کی اثر انگیز کتاب Medival Theory of Authorship جس کی اہمیت قرون ِ وسطیٰ کے مطالعات میں عرصہ دراز سے مسلم ہے اس مضمون کے علاوہ ان سب کو بھی پڑھنا چاہیے جو اوائلی قلمی ثقافت کے ادب کی نظریہ سازی پر پڑنے والے اثرات کی تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

حال میں ہونے والے قرون وسطیٰ کے مخطوطات کے مطالعات کا خود کو “new” philology یا “new” codicology کہنے سے قدیم اور جدید کے جانے پہچانے تعامل کی نشاندہی ہوتی ہے: جدیدیت کی جانب گاہے بگاہے آنے والے اشارے اس میدان ِ علم کے اپنے بنیادی مقصد کی طرف لوٹنے کے مستقل مطالبے کا جواز ہیں۔ اسی طرح دوسرے میدان ِ علم کے لوگوں سے گفت و شنید احیاء ِ شوق کا کام دیتی ہے لیکن میرے لیے قرون ِ وسطیٰ کے مخطوطات کے مطالعات ’’ کتاب ‘‘ کی نوعیت کے کسی بھی جائزے کیلئے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں، جیسا کہ بیسویں صدی میں متنیت کے بارے میں قرون ِ وسطیٰ کی قلبی حیثیت ہے۔

اسی طرح کا دعویٰ کتاب کی تاریخ کے بارے میں بھی کیا جا سکتا ہے، یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ کتاب کے اولین مورخوں نے قرون ِ وسطیٰ سے تحریک وہبی حاصل کی تھی (بلکہ معاملہ اس کے برعکس تھا) بلکہ مقصد یہ ہے کہ قلمی ثقافت کے اٹھائے گئے سوال : مصنف کیا ہوتا ہے؟ کیا اس کلاس میں کوئی متن ہے؟ مادی متن کی مابعداز ساخت شکنی کی تھیوریوں کی جڑ ہیں ۔ قرون ِ وسطیٰ کے ماہرین کو ہمیشہ سے علم تھا کہ تحریر کی مادی حقیقتیں اس کے معنی تخلیق کرتی ہیں ۔ اگر ایک تحریر کے کئی مختلف متون موجود ہیں جن میں سے کسی مصنف کا اجازت نامہ شامل نہ ہو تو پھر یہ عیاں ہے کہ ہر مخطوطہ کی شکل قارئین کے لیے معنی کا تعین کرتی ہے۔

قرون ِ وسطیٰ کے ماہرین کھل کر ضمنی طور سے کئی دہائیوں سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا کام دوسرے مضامین کے ماہرین کیلئے سود مند ہونا چاہیے ۔ میں بلند بانگی کی معذرت کے ساتھ اس آواز میں ا پنی آواز ملاؤںگی ۔ گو یہ میدان ِ علم شاید صرف مخصوص منہاجیات فراہم کرتا ہے۔ قرون ِ وسطیٰ کے مخطوطہ کا مطالعہ کتاب کی ایسی تھیوری بھی فراہم کرتا ہے جو طباعت کے عہد میں بھی دیر تک صائب رہی ہے۔ مخطوطات کے مطالعہ اور کتاب کی تاریخ دونوں پر یہ الزام ہے کہ ان کی تیاری میں تسلی بخش حد تک تھیوری سازی نہیں کی گئی۔

ماضی کی ادبی ثقافتوں کی نسبت قرون ِ وسطیٰ کے متون کی مادی اشکال ہمارے لیے زیادہ وضاحت کر سکتی ہیں : مخطوطات ادب کی جانب ہمارے نظر یوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کر سکتے ہیں ۔ علمی ثقافت کی تغیر پذیریت ان ماہرین کی توجہ کی طالب ہے جو قرون ِ وسطیٰ کے متون کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اثرات کی بجائے ہمیں فی الحقیقت اس دور کے مخطوطات کو دیکھنا چاہیے نہ کہ انہیں ایک ذریعہ تعلیم سمجھنا چاہیے۔ ہم ان کی موضوعاتی حیثیت کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔

کتاب کی جدید تاریخ پر تنقید کرنے والے بھی ہیں۔ جان سدر لینڈ نے مکینزی کی طباعت کی تاریخ کی ذیلی حقیقتوں کی مشکل تحقیق کی بابت سوال اٹھایا کہ کہیں یہ کاوش بے سود تو نہیں رہی۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ڈیوڈ سکاٹ کستان (جو خود اس میدان ِ علم میں کار فرما ہیں) نے مخطوطات کے مطالعہ اور ان کے باہمی رشتوں کے مطالعہ Codicology کے جمع کردہ رائی کے پہاڑوں کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس مضمون کو طنزیہ انداز میں “The New Boredom” قرار دیا۔ اسی طرح سیٹھ لیریر نے کتاب کی تاریخ میں نیم خوابی طاری ہونے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں کوڈیکس (قدیم مخطوطہ کی کتاب کی شکل میں پیشکش) کے لفظ کو “codger” (ایک بوڑھا شخص) کے فوراً پہلے رکھے جانا عجیب طور پر معنی خیز ہو سکتا ہے۔ لیکن سکاٹ کستان کا ’’مادیت‘‘ کی تھیوری کے بعد ادبی مطالعات کو مطمعِ نظر بتانا دراصل یہ تجویز کرنے کے متراد ف ہے کہ پرانے آفاق سے نئے افق کیسے استنباط کئے جا سکتے ہیں۔

میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ تاریخ ِ کتاب کے بارے میں مجرد اور نظریاتی سوچ کیلئے ما قبل از جدید ہئیتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا مفید ہو سکتا ہے۔ قرون ِ وسطیٰ کی کتاب مصنفیت کی نوعیت ، قارئین کو دستیاب تشریحی امکانات اور متون کے رتبہ کی بابت وسیع تر نظریاتی سوال اٹھانے کی جاہ بھی ہو سکتے ہیں جن میں ما بعد از جدیدیت کے سوال بھی شامل کئے جا سکتے ہیں ۔ مخطوطات کے بارے عمومی رائے زنی کرنے کے مسائل تاریخی بازیابی کی سخت گیر منہاج کی متقاضی ہے جو بادی النظر میں اس میدان ِ علم کے وسیع تر سوال اٹھانے کی قابلیت میں رکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔ لیکن مخطوطہ کے ٹھوس حقائق کی موجودگی میں عمومی تصفیے کرنے کی مشکل کا یہ تقا ضا بھی ہے کہ ایسے نظریاتی موقف وضع کئے جائیں جو اس مشکل کا جواز بتا سکیں۔

مادی متن کی جدید تھیوریوں کے بارے میں سوال اٹھانے، تمثیل پیش کرنے اور انکشاف کرنے کی قرون ِ وسطیٰ کے مخطوطات کی قابلیت اسی بنا پر ہے کہ وہ ان سب سے زمانی طور پر بعید ہیں ۔ علمی ثقافت کی طباعت کی ثقافت سے علیحدگی اور اس کی مخصوص طبعی اشکال وہ چیزیں ہیں جو ان کی نظریاتی اساس کو فوکس میں لاتی ہیں۔ ٹھوس کے مجرد کی نشاندہی کا امکان وسیع تر تاریخ ِ کتاب کے مضمون میں دلچسپی کی بنیاد ہے۔ اور منفرد کی نظریاتی قوت کا واضح ترین اظہار مخطوطاتی مطالعہ کی منہاجیات سے ہوتا ہے۔ قرون ِ وسطیٰ کی کتاب کی تاریخ ہمیں سارےادب کی تاریخیت کی یاد دلاتی ہے اور یہ کہ ہر ادب پارہ چاہے وہ کل ہی کیوں نہ لکھا گیا ہو ، اپنے مادیت کے ماضی سے معنی تشکیل کرتا ہے۔

Courtesy: www.siasat.pk