اس جدید دور میں بھی کتاب سے محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔

تحصیل میلسی کے علاقے مِترو کے رہائشی فخرالزمان صدیقی کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہی ہوتا ہے جن کے نزدیک شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ سترہ سالہ فخرالزمان ایک محنت کش بڑھئی کے بیٹے ہیں۔ فخرالزمان صدیقی بتاتے ہیں کہ وہ تین بہن بھائی ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول مِترو سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کے امتحان میں ایک ہزار نمبر حاصل کیے۔ اب وہ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے سوشیالوجی، ہسٹری اور انگلش لٹریچر میں ایف اے کر رہے ہیں۔ مستقبل میں سی ایس پی افسر بننا چاہتے ہیں۔ فخرالزمان بی اے گورنمنٹ کالج لاہور، ایل ایل بی اور ایم ایس سی انٹرنیشنل ریلیشنز قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ 2003ء میں مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری میں پہلی بار گئے، تب ان کے ذہن میں اپنی لائبریری بنانے کا خیال آیا۔ جسے وہ ہر حال میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اب تک تقریباً دس ہزار سے زائد کتب خرید کر علامہ اقبال لائبریری بنائی ہے۔

‘ان کے گھر میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ ساری کتابیں رکھ سکیں، گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول مِترو نے ایک کمرہ انہیں دیا ہوا ہے جہاں انکی ساری کتب موجود ہیں۔’

image could not load

سکول کے کمرے میں کتابیں پڑی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی اور ارفع کریم ان کے رول ماڈل ہیں۔ فخرالزمان بتاتے ہیں کہ 2010ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن سیکنڈ بیسٹ ریڈر آف دی ائر کا ایوارڈ، 2013ء میں انہیں قائد اعظم ایوارڈ برائے سکاؤٹ وزیراعلیٰ پبجاب شہبازشریف کی طرف سے دیا گیا۔

‘کُتب بینی کا بچپن سے ہی بے حد شوق ہے۔ بچپن میں جیب خرچ اور اعزازات سے ملنے والی رقوم سے عام بچوں کی طرح کھلونے خریدنے کی بجائے کتب خریدتا آ رہا ہوں۔’ ان کا کہنا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ کتاب دوستی بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک ان کے پاس دس ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ مزید گزرتے دن کے ساتھ انکی علامہ اقبال لائبریری میں کتب کا اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مِترو میں دوران تعلیم لائبریری کے ذریعے اہل علاقہ کو کتاب سے جوڑنے کی بہت کوشش کی تاہم لوگوں نے اس میں دلچسپی لینا پسند نہ کی۔ اب بھی وہ ملتان میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ لائبریری کو بھی توجہ دے رہے ہیں۔ فخرالزمان کہتے ہیں کہ کتاب کی وجہ سے قوموں کو عروج ملتا ہے تاہم پاکستانی قوم نے کتابوں کو چھوڑ کر الیکٹرانک میڈیا کی جانب زیادہ توجہ کر لی ہے۔ ‘علم کے میدان میں مسلمان دنیا پر غالب تھے مگر کتاب سے رشتہ توڑ کر وہ دوسری قوموں سے مغلوب ہو چکے ہیں۔ اب بھی اگر مسلمان کتاب سے رشتہ استوار کر لیں تو کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ قوم دہشت گردی کے عفریت میں پھنس چکی ہے اس سے آزادی کا واحد راستہ علم اور کتاب ہے۔ نوجوانوں کے ہاتھوں سے بارود لے کر کتاب دینا ہو گی۔

فخرالزمان کا کہنا ہے کہ بچپن میں والدہ کی وفات نے جہاں انہیں بہت کچھ سکھایا وہیں وہ بالغِ نظر بھی بن گئے۔ ان کے ماموں محمد یاسین لائبریری اور ان کی پڑھائی کے اخراجات میں معاونت کرتے ہیں۔ ‘علمی حوالہ سے میں تمام تر راہنمائی چیف لائبریرین سید وقاص سعید سے حاصل کرتا ہوں اور ایمرسن کالج کے ہسٹری کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر نشاط احمد کھیڑا انکے بہترین استاد ہیں۔’ اس باہمت نوجوان کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کے علاقے مترو کے ایک زمیندار نے اپنی قیمتی اراضی میں سے ایک ایکڑ جگہ فخرالزمان کو دی ہے جس پر وہ علامہ اقبال ریسرچ لائبریری بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال ریسرچ لائبریری کے قیام کے لیے انہیں حکومت اور لوگوں کی مدد درکار ہے تاکہ ان کے علاقے میں علم کا مینار روشن ہو سکے۔

Courtesy: http://vehari.sujag.org/