قصور بلھے شاہ لا ئبریری ضلع قصور کے لو گوں کے لئے وا حد پبلک لا ئبریری ہے۔
حکام کی لا پروائی کی وجہ سے لا ئبریری بے حسی کی تصویر بنتی جا رہی ہے۔
بلھے شاہ لا ئبریری 1867 میں قائم کی گئی۔یہ قصور میونسپل لا ئبریری کے طور پربھی جانی جاتی ہے۔اس کو انتیس دسمبر 1930کو پہلی بار پچاس کتابیں خریدنے کے لئے بجٹ ملا۔اس وقت اس کی ممبر شپ فیس 10 روپے تھی۔جو کہ اب

بڑھ کر تریسbulleh shah libraryٹھ روپے ہو گئی ہے۔تین سو روپے سکیورٹی چارجز لئے جاتے ہیں۔ قصور کی عوام کو قابل قدر خدمات انجام دینے کے وعدوں کے باوجود یہ لا ئبریری حکام کی نااہلی اور بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک سروے کی دوران معلوم ہوا کہ ٹی ایم اے نے 2001 کے بعد کو ئی بھی کتاب نہیں خریدی ۔ لا ئبریری میں ملکی اور غیر ملکی میگزین اور جدید تعلیم کے ریسورسز کا فقدان ہے۔ لا ئبریری میں صرف 13046کتابیں ہیں ۔جس میں 9593 اردو اور 3453 انگلش پر مشتمل ہیں۔لا ئبریری کے آدھے حصے کو تحصیل کونسلوں کی میٹنگز اور دیگر تقریبات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے قارئین کو لا ئبریری میں آنے اور یہاں وقت گزارنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔رابطہ کرنے پر لائبریرین نے بتایاکہ لا ئبریری کے لئے مختص بجٹ لا ئبریری کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ انہوں نے تجویز دی کہ زیادہ لوگوںکے لئے لا ئبریری کی عمارت میں توسیع کی جائے۔اور عملے کے لئے ریفرریشر کورسز کی ضرورت ہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز پیپر